ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
کی ملاقات میں وہ مسلسل عقل کی نفی کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح عیسائی پادریوں سے جب میں سنجیدہ گفتگو کرتا ہوں تو وہ بھی عقل کی نفی کرتے ہیں۔ ہر ایک کہتا ہے کہ مذہب تو عقیدہ کا معاملہ ہے اس کو عقل سے جانچنا درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ تمام مذاہب تحریف کی بنا پر عقلی بنیاد سے محروم ہوگئے ہیں۔ یہ صرف اسلام ہے جو عقل کی بنیاد پر پور اترتا ہے۔ اس گفتگو کے بعد میں نے مولانا انیس لقمان ندوی سے کہا کہ آجکل ہمارے تمام رہنما مسلمانوں کو خطرات کی خبرسنارہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ تمہارا تشخص مٹایا جارہا ہے۔ کوئی بتاتا ہے کہ ہندو اس ملک میں دوسرا اسپین بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سب بالکل لغو باتیں ہیں۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس طاقت سے باخبر کیا جائے۔ جو اب بھی اسلام کی صورت میں ان کے پاس موجود ہے۔ ۱۳ جنوری ۱۹۹۲ انڈین ایکسپریس (۱۲ جنوری ۱۹۹۲) میں سابق سوویت یونین کی ایک تصویر چھپی ہے۔ لینن کا ایک بہت بڑا مجسمہ اوندھے منہ گرا ہوا نظر آتا ہے۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ۳۰ سال پہلے خروشچیف نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیونسٹ سرمایہ داری کو دفن کردیں گے : Communists would bury capitalism. (p. 9) دوسروں کو دفن کرنے والے خود دفن ہوگئے۔ جدید تاریخ کا یہ واقعہ بھی کیسا عجیب ہے۔ ۱۴ جنوری ۱۹۹۲ ڈاکٹر کرن سنگھ کشمیر کی راجہ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اس سے پہلے مرکزی وزیر رہ چکے ہیں۔ آجکل وہ ٹیمپل آف ریلیجس انڈر سٹینڈنگ کے چیئرمین ہیں۔ ہندوستان ٹائمز (۱۳ جنوری ۱۹۹۲) کے مطابق ، انھوں نے دہلی میں اپنی ایک تقریر کے دوران بتایا کہ مذہب کا رجحان پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جموں کے وشنو دیوی مندر میں ۱۹۵۰ میں ۲۵ ہزار آدمی زیارت کے لئے گئے تھے۔ ۱۹۹۰ میں یہ تعداد ۲۵ لاکھ تک پہنچ گئی :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader