Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

He said that 25,000 people visited the Vaishno Devi shrine in 1950. In 1990 the number has become 25 lakh. وشنودیو‌ی کا یہ مندر جموں کے پہاڑ کے اوپر ہے۔ وہاں تعلیم یافتہ اور دولت مند ہندو بھی کثرت سے جا رہے ہیں۔ چنانچہ جموں سے وشنودیو‌ی کے لئے ہوائی جہاز کی سروس جاری کی گئی ہے۔ اندر اس کے لئے وشنو دیوی مندر کے قریب ایک ہوائی پٹی بنائی گئی ہے۔ مذہب کی طرف رجحان کا یہ واقعہ ہر مذہب ہی گروہ میں ہو رہا ہے۔ مگر بہت سے مسلمان جو اس کو نہیں جانتے وہ اس کو اپنے بزرگوں کے خانہ میں لکھے ہوئے ہیں۔ ۱۵ جنوری ۱۹۹۲ مولاناعبد اللہ طارق صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آج کل ہمارے علماء اور مسلم رہنما بڑے زہد و دشور سے ایک خطرہ کی نشانہ ہی کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہ ہندوستان میں ہمارا ملی تشخص مٹایا جا رہا ہے۔ آخر یہ تشخص مٹانے کا واقعہ کہاں ہو رہا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں نے آج تک کوئی ایسا مسلمان نہیں دیکھا جس نے کرتا پا نجامہ آتار کر دھوتی پہن لی ہو یا سر پر چوٹی رکھ لی ہو۔ آپ نے اگر کوئی ایسا مسلمان دیکھا ہو تو بتائیے ۔ پھر میں نے کہا کہ اس سلسلہ میں سب سے بڑی مثال شاہ بانو کیس کی دی جاتی ہے۔ مگر یہ سراسر خلاف تقویٰ ( المائدہ ۸ ) بات ہے۔ عدالت حاکم نہیں ہوتی، عدالت صرف اس آدمی کے معاملہ کا فیصلہ کرتی ہے جو اس کے پاس اپنا مقدمہ لے کر جائے۔ مدینہ میں کچھ مسلمان اپنا مقدمہ یہودی سرداروں کے پاس لے گئے۔ اس کے بارہ میں قرآن میں آیت اتری تو اس میں یہودیوں کی مذمت نہیں کی گئی۔ بلکہ ان مسلمانوں کی مذمت کی گئی جو اپنا مقدمہ یہودی سرداروں کے یہاں لے گئے تھے۔ اسی طرح ہندوستانی علماء کو مسلمانوں سے کہنا چاہئے کہ وہ اپنا مقدمہ دار الافتاء میں لے جائیں نہ کہ وہ ملکی عدالت کی مذمت کرنے لگیں ۔ امام شافعی اور ان کے پیروؤں کا مسلک یہ تھا کہ نماز میں بسم اللہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ اس کے مقابلہ میں امام مالک اور ان کے پیروؤں کا مسلک یہ تھا کہ نماز میں بسم اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page