Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قسم کے اختلافات ہمیشہ استنباطی ہوتے ہیں اور استنباط میں اختلاف سے بچنا ممکن نہیں۔ اس لئے استنباطی امور میں یہی صحیح مسلک ہے کہ ذاتی طور پر ایک رائے رکھنے کے با وجود دوسرے کی مختلف رائے کا احترام کیا جائے ۔ اسی کو امام شافعی نے ان لفظوں میں کہا تھا: رأيى صواب يحتمل الخطاء ورأى غيرى خطأ يحتمل الصواب۔ ۱۷ جنوری ۱۹۹۲ قومی آواز (۱۷ جنوری ۱۹۹۲) میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایک تعلیم یافتہ خاتون یاسمین طلعت آفاق کا مضمون چھپا ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے ۱۹۴۸ میں مولانا ابوالکلام آزاد کو مسلم یونیورسٹی میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیتے ہوئے کہا تھا کہ : اردو زبان کو ہمیشہ یہ فخر رہے گا کہ وہ آپ کی زبان سے بولی گئی اور آپ کے قلم سے لکھی گئی۔ آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کے بیٹے شہزادہ جواں بخت کی شادی لال قلعہ میں ہوئی ۔ تو ذوق اور غالب میں سہرا لکھنے کا مقابلہ ہوا ۔ ہر ایک نے مضمون بندی میں کمال دکھایا۔ غالب کے سہرے کا پہلا شعر یہ تھا : خوش ہوں ہوا ہے بخت کہ ہے آج تیرے سر سہرا باندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا غالب کا شعر اور ذاکر حسین کی نشر دونوں کی حیثیت لفظی خیال آرائی کی ہے نہ کہ حقیقت بیانی کی۔ بہادر شاہ ظفر کے دور سے لے کر آج تک اردو زبان پر یہی اندازِ غالب ہے ۔ اردو زبان ابھی تک اس سطحیت سے باہر نہ آسکی ۔ ۱۸ جنوری ۱۹۹۱ آج میں محبوب نگر میں تھا۔ ایک صاحب نے اپنے یہاں صبح کے ناشتہ کے لئے بلایا۔ میں نے کہا کہ میں اس شرط پر آپ کے یہاں ناشتہ کے لئے آؤں گا جب کہ آپ مجھ کو وہی کھلائیں جو آپ روزانہ کھاتے ہیں۔ انھوں نے وعدہ کیا۔ جب میں ان کے گھر پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک طرف کھچڑی اور چٹنی ہے ۔ اور دوسری طرف دسترخوان پر مختلف قسم کے بسکٹ اور پھل رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ نے وعدہ پورا نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ میرا ناشتہ یہی کھچڑی اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page