Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

انہوں نے کہا کہ یہ تم نے کیا غضب کیا۔ بڑوں کو اس طرح کھلایا جاتا۔ چنانچہ میں بھاگ کر بازار آ گیا ۔ اور پچاس روپیہ میں یہ پھل اور بسکٹ لے آیا۔ یہ سن کر مجھے اتنا افسوس ہوا کہ اس کے بعد میں ناشتہ نہ کرسکا۔ میرا مزاج یہ ہے کہ سادہ کھانا ہو تو میں شوق سے کھاتا ہوں۔ لیکن اگر دسترخوان پر تکلف دعوت کا منظر ہو تو میری بھوک غائب ہو جاتی ہے۔ ۱۹ جنوری ۱۹۹۲ آج کشمیر کے کئی تعلیم یافتہ مسلمان ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ فلاں اور فلاں چیز ہم کو دے گا مگر اس نے ہم کو کچھ نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں کوئی بھی کسی کو کچھ نہیں دیتا۔ یہاں ہر شخص یا قوم کو اتنا ہی ملتا ہے جتنی صلاحیت اس نے اپنے اندر پیدا کی۔ میں نے کہا کہ قدیم پاکستان میں بنگالیوں کو یہ شکایت ہوئی کہ پاکستانی فوج پر پہنچابیوں کا قبضہ ہے۔ حالاں کہ یہ شکایت کی بات نہیں تھی بلکہ اعتراف کی بات تھی۔ کیوں کہ پاکستانی فوج پر پہنچابیوں کا قبضہ اس لئے تھا کہ وہ مارشل ریس سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح تقسیم کے بعد سندھیوں کو یہ شکایت ہوئی کہ مہاجر سندھ کے اقتصادی ذرائع پر قابض ہو گئے۔ مگر یہ بھی شکایت کی بات نہ تھی۔ اصل وجہ یہ تھی کہ مہاجر لوگ تعلیم میں سندھیوں سے بڑے ہوئے تھے اس لئے وہ اقتصادی میدان میں زیادہ آگے بڑھ گئے۔ اسی طرح کشمیری بھی جو کچھ بھگت رہے ہیں وہ اپنے پچھڑے پن کو بھگت رہے ہیں۔ اور پچھڑے ہوئے لوگوں کو ہمیشہ اس کی قیمت دینی پڑتی ہے ، خواہ وہ ایک ملک میں ہوں یا دوسرے ملک میں۔ ۲۰ جنوری کو میں حیدر آباد میں تھا۔ یہاں کے ایک بڑے صنعت کار مجھے اپنی نئی گاڑی پر لے کر کہیں جا رہے تھے۔ گاڑی میں اس وقت صرف ہم دونوں تھے۔ موصوف نے کہا کہ الرساله

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page