ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
مشن سے مجھے صد فیصد اتفاق ہے۔ میں پابندی کے ساتھ اس کا مطالعہ کرتا ہوں دیکھتے ہوئے وہ بے اختیار روپڑے ۔ انھوں نے روتے ہوئے کہا کہ اکثری چاہتا ہے میں سب کچھ چھوڑ کر بس الرسالمشن میں لگ جاؤں۔ پھر سوچنے لگتا ہوں کہ بیوی بچوں کا کیا ہوگا۔ یہ سوچ کر قدم رک جاتے ہیں۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ اس قسم کے اندیشے محض فرضی ہوتے ہیں۔ اگر آدمی ایک بار ہمت کرکے اقدام کر دے تو اس کے بعد وہ دیکھے گا کہ خدا کے فرشتے ہر جگہ اس کے استقبال کرنے کے لئے موجود ہیں۔ ۲۱ جنوری ۱۹۹۲ مولانا امیر اللہ خاں قاسمی نے ایک لطیفہ سنایا۔ ایک آدمی کھانا کھانے کے لئے ایک ہوٹل میں داخل ہوا۔ سامنے دو کمرے تھے۔ ایک کے دروازہ پر لکھا ہوا تھا: اچھا کھانا ، اور دوسرے دروازہ پر لکھا ہوا تھا بہت اچھا کھانا۔ وہ اچھا کھانا والے دروازہ میں داخل ہوگیا ۔ اندر دوبارہ دو دروازے تھے۔ ایک پر لکھا ہوا تھا ستا کھانا، اور دوسرے پر لکھا ہوا تھا مہنگا کھانا ۔ وہ ستا کھانا والے کمرہ میں داخل ہو گیا۔ اب اس کے سامنے دوبارہ دو دروازے تھے۔ ایک پر لکھا ہوا تھا مفت کھانا، اور دوسرے پر لکھا ہوا تھا قیمتی کھانا ۔ وہ آدمی مفت کھانا والے دروازہ میں داخل ہوا۔ جب اس نے دروازہ پار کیا تو اس نے اپنے آپ کو سڑک پر پایا۔ پلٹ کر دیکھا تو بیرونی دروازہ پر بورڈ لگا ہوا تھا: اندر آنا منع ہے۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں کامیابی کے گھر میں داخلہ اسی کو ملتا ہے جو اس کی مطلوبہ قیمت دینے کے لئے تیار ہو۔ جو شخص قیمت دینا نہ چاہے اس کو ہر دروازہ پر یہی لکھا ہوا ملے گا۔ اندر آنا منع ہے۔ ۲۲ جنوری ۱۹۹۳ قرآن میں مختلف مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ آخرت کا قول الحمد للہ رب العالمین ہوگا ۔ اس پر غور کرتے ہوئے یہ خیال آیا کہ آخرت کا کلام تمام تر حمد اور ٹینٹ (Hamd oriented) کلام ہوگا۔ ایسی حالت میں وہاں صرف وہی لوگ کلام کے مواقع پائیں گے جو دنیا میں حمد خدا وندی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader