ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
میں جئے، جنھیں یہاں حمد کی معرفت حاصل ہوئی۔ جن کی زبان پر یہاں حمد کے کلمات جاری ہوئے۔ ایسے لوگ جب آخرت کے عالم میں داخل ہوں گے تو وہ گویا ایسے لوگ ہوں گے جو امتحان اور تیاری کے مرحلہ میں کلام حمد کی تربیت پا چکے ہیں۔ ان کی تربیت انھیں آخرت کے حمد سے بھرے ہوئے ماحول میں بولنے کے قابل بنا دے گی۔ وہ وہاں اپنی زبان کا بھر پور استعمال پالیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ موجودہ دنیا میں کلام حمد سے خالی رہے وہ آخرت میں بھی کلام حمد سے محروم رہیں گے۔ وہ وہاں من كان في هذه أعمى فهو في الآخرة أعمى کا مصداق ٹھہریں گے۔ ۲۳ جنوری ۱۹۹۱ یونس سلیم صاحب (نئی دہلی) ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ۲۲ اور ۲۳ دسمبر ۱۹۴۹ کی درمیانی رات کو اجودھیا کی باہری مسجد کے اندر مورتی رکھی گئی ۔ اور یکم فروری ۱۹۸۶ کو ضلعی عدالت کے حکم سے اس کا تالا کھول دیا گیا۔ دسمبر ۱۹۴۹ کے واقعہ کے بعد مسلمانوں نے اس کے خلاف کوئی دھوم نہیں مچائی، اگر چہ اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد سمیت تمام مسلم اکابر زندہ تھے۔ فروری ۱۹۸۶ کے بعد البتہ اس مسئلہ پر زبر دست دھوم مچائی گئی۔ مگر اب تک اس کا کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اس طرح کی مختلف باتیں وہ کہتے رہے۔ میرے نزدیک اس مسئلہ کا حل نہ لیڈروں سے ملاقاتیں ہیں اور نہ عدالت اور نہ عوامی ایجی ٹیشن ۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ دونوں فریق کو اس پر راضی کیا جائے کہ مورخین کا ایک بورڈ بنایا جائے اور بورڈ جو فیصلہ کرے اس کو دونوں فریق بلا اختلاف مان لیں۔ یہی اس مسئلہ کا واحد باعزت حل ہے۔ ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ مولانا نظام الدین اصلاحی سے ٹیلی فون پر جز یہ کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ قرآن (التوبہ ۲۹) میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی نوعیت کو متعین کرنے کے سلسلہ میں علماء اور فقہاء کے درمیان کافی اختلافات ہیں۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ جزیہ کس چیز کا اور ہے وہ اسلامی حکومت اور اس کے مہیا کردہ حفاظتی اور دوسرے امور کا بدلہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader