Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 193

By Maulana Wahiduddin Khan

اور اس کا تعلق دور نبوت کے اہل کتاب سے ہے نہ کہ ہر دور کے اہل کتاب اور شبہ اہل کتاب سے۔ اصل یہ ہے کہ جن لوگوں کے اوپر براہ راست پیغمبر کے ذریعہ اتمام حجت کر دی جائے وہ اس کے بعد زندگی کے حق سے محروم قرار پاتے ہیں۔ مشرکین عرب کا معاملہ یہی تھا۔ چنانچہ ان کے بارہ میں حکم دیا گیا کہ تا قبول اسلام ان سے جنگ کرو۔ عرب کے یہود ونصاریٰ کو اس سلسلہ میں جزئی رعایت دی گئی۔ ان کے متعلق یہ حکم آیا کہ اگر وہ جز یہ (مالی فدیہ) ادا کر دیں تو ان سے جز یہ قبول کر کے انہیں چھوڑ دو۔ جس طرح جنگ تا قبول اسلام کا حکم صرف دور نبوت کے مشرکین سے تھا۔ اسی طرح جنگ تا اداء جز یہ کا حکم بھی دور نبوت کے اہل کتاب سے ہے۔ اب یہ دونوں حکم عملاً منسوخ ہو چکے ہیں۔ اب مسلم حکومتوں میں مسلم اور غیر مسلم دونوں پر یکساں مالی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ البتہ زکوٰۃ صرف مسلمانوں کے لئے خاص رہے گی، کیوں کہ وہ مسلمانوں کے لئے مالی عبادت ہے جس طرح نماز ان کے لئے بدنی عبادت ہے۔ ۲۵ جنوری ۱۹۹۲ء غلامی (slavery) قدیم زمانہ میں ایک عام رواج کی حیثیت رکھتی تھی۔ اسلام کا ظہور ہوا تو ہر ملک میں انسانی غلام اسی طرح پائے جاتے تھے جس طرح موجودہ زمانہ میں صنعتی مزدور پائے جاتے ہیں۔ غلام کا آقا اپنے غلام سے ہر قسم کی خدمت لینے کا حق رکھتا تھا۔ حتیٰ کہ آقا اگر اپنے غلام کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرے تو اس کے لئے بھی اسے سماجی اجازت (social sanction) حاصل تھی۔ (صفحہ ۸۵۳) مورخین نے اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے غلاموں کے ساتھ سلوک کے معاملہ میں انقلابی تبدیلیاں کیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا نے لکھا ہے کہ اسلام کے بعد بھی اگرچہ مسلم دنیا میں غلامی ایک عرصہ تک باقی رہی مگر وہ روم اور دوسرے ملکوں کی غلامی سے بہت مختلف (very different) تھی۔ مسلم گھروں میں غلام نہایت اچھے سلوک (well treated) کی حیثیت سے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ اقتدار کے منصب پر بھی پہنچ سکتے تھے جس کی ایک ممتاز مثال مملوک سلاطین کی ہے جنھوں نے ۱۲۵۰ء سے ۱۵۱۰ء تک مصر میں حکومت کی (16/859)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page