Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

مورخین کا مزید یہ کہنا ہے کہ اسلام نے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید تو کی مگر اسلام نے غلامی کی مذمت یا اس کے خاتمہ کا قانون جاری نہیں کیا۔ مگر یہی مورخین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام کے ظہور کے بعد مسلم دنیا میں غلامی دھیرے دھیرے ختم ہو گئی۔ (صفحہ ۸۵۹) ان دونوں باتوں کو ملائیے تو اس معاملہ میں اسلام کا موقف واضح طور پر سامنے آ جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اسلام نے غلامی کے یک لخت خاتمہ کا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ اسلام نے اپنے عام اصلاحی اصول کے مطابق، اس کے خاتمہ کے لئے تدریج کا طریقہ اختیار کیا۔ یہی تدریجی طویق کار تھا جس نے مسلم دنیا سے ہمیشہ کے لئے غلامی کا خاتمہ کر دیا۔ ۲۶ جنوری ۱۹۹۲ ڈاکٹر عبدالکریم نامیگ (بمبئی) نے ٹیلیفون پر بتایا کہ وہ دہلی کے ایک مشہور مدرسہ تحفیظ القرآن میں گئے۔ وہاں حافظہ کے درجہ میں بیس پچیس لڑکے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے لڑکوں سے پوچھا کہ 'قرآن' کا مطلب کیا ہے۔ سب لڑکے خاموش رہے۔ آخر میں ایک لڑکے نے کہا کہ اللہ میاں کی کتاب۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے پوچھا کہ السلام علیکم کا مطلب بتاؤ۔ مگر کوئی لڑکا اس کا مطلب نہ بتا سکا۔ ڈاکٹر صاحب نے استاد سے کہا کہ آپ لوگ طالب علموں کو یہ سب باتیں کیوں نہیں بتاتے استاد نے جواب دیا کہ اگر ہم یہ سب باتیں بتائیں تو طلبہ کا ذہن بٹ جائے گا۔ اور حفظ کرنے میں رکاوٹ پڑے گی ۔ یہ صرف مدرسہ تحفیظ القرآن کی بات نہیں۔ یہی موجودہ مدارس کا عام مزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مدارس محدود ذہن پیدا کرنے کے کارخانے بن گئے ہیں۔ ۲۷ جنوری ۱۹۹۲ بی جے بی کے صدر مرلی منوہر جوشی کی قیادت میں ایکتا یاترا نکالی گئی ۔ کنیا کماری سے کشمیر تک اس نے ۱۵ ہزار کلو میٹر کا سفر طے کیا۔ ۲۵ جنوری کو یہ یاترا جموں میں پہنچی۔ ۲۶ جنوری کو سرینگر پہنچ کر اس نے لال چوک پر اکا ترنگا جھنڈ الہرایا۔ کشمیر کے دو صاحبان، غلام نبی ہارون ایڈوکیٹ اور محمد امین شاہ آج ملاقات کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page