ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک اللہ دینی ہندوؤں کی حمایت میں ان کے ۳۳ کروڑ دیتا ہے۔ اور مسلمانوں کے پاس تو صرف ایک اللہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ نعرہ انتہائی حد تک باغیانہ ہے۔ مگر اس پر کشمیر میں یا انڈیا کے مسلمانوں میں کوئی ہنگامہ برپانہیں ہوا۔ اس کے برعکس اکھیا ترا والے یہ نعرہ لگاتے کہ" ہندوؤں کا رام ۳۳ کروڑ، مسلمانوں کا محمد صرف ایک تو تقریباً ہر جگہ مسلمان مشتعل ہو کر زبردست ہنگامہ کھڑا کر دیتے ۔ اس قسم کے واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ مسلمانوں کا مذہب ہیرو پرستی ہے نہ کہ خدا پرستی۔ ۲۸ جنوری ۱۹۹۲ ایک مغربی مصنف نے ایک بار اسلام اور اس کی سادہ تعلیمات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام تو عقل عام کا مذہب ہے: Islam is the religion of common sense. عقل عام یا کامن سن٘س سے مراد فطرت ہے۔ مذہب دراصل فطرت انسانی کا لفظی بیان ہے۔ اس اعتبار سے ہر مذہب حقیقۃ کامن سن٘س ہی کا مذہب تھا۔ مگر بعد کو ان مذاہب کے علما نے اس میں تبدیلیاں کیں۔ اس بنا پر وہ محرف ہو گیا۔ اسلام چونکہ غیر محرف مذہب ہے اس لئے وہ اپنی اصل اور ابتدائی صفت کو اب تک باقی رکھے ہوئے ہے۔ ۲۹ جنوری ۱۹۹۲ ایک آدمی کو بائیسکل کی ضرورت ہو تو وہ اس کی قیمت لے کر بازار جائے گا اور ضروری قیمت دے کر اپنے لئے ایک بائیسکل حاصل کرلے گا۔ اگر کوئی شخص مجھ سے یہ پوچھنے آئے کہ بائیسکل کیسے بنتی ہے تو میری رائے یہ ہوگی کہ وہ قیمت دئے بغیر بائیسکل کا مالک بننا چاہتا ہے۔ اس لئے وہ بازار جانے کے بجائے میرے پاس آیا ہے۔ مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ اللہ کی معرفت کیسے ملتی ہے۔ تقوی کس طرح حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح لوگ پوچھتے ہیں کہ لکھنا کیسے آتا ہے۔ کوئی آدمی مصنف کیسے بنتا ہے۔ وغیرہ۔ میں اکثر سوچتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader