ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں کہ میں نے اپنی ساری زندگی میں کبھی کسی سے اس قسم کا سوال نہیں کیا۔ پھر یہ لوگ کیوں اس قسم کے سوال کرتے ہیں۔ غور کرنے کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ اس قسم کا سوال کرنے والے کا معاملہ وہی ہے جو بائیسکل کے لئے پوچھنے والوں کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ قیمت دئے بغیر معرفت رب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ قیمت دئے بغیر لکھنے والا بننا چاہتے ہیں۔ اگر وہ قیمت دے کر معرفت حاصل کرنا چاہتے یا قیمت دئے کر لکھنے والا بننا چاہتے تو مجھ سے یا کسی سے اس قسم کا سوال نہ کرتے۔ انہیں پوچھے بغیر یہ معلوم ہو جاتا کہ اس کی ایک قیمت ہے اور وہ قیمت ادا کر کے ہی میں اپنی مطلوبہ چیز حاصل کر سکتا ہوں۔ ۳۰ جنوری ۱۹۹۲ ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اپنی کتاب ’’اقوالِ حکمت‘‘ میں لکھا ہے کہ اکثر لوگ زندگی کی کتاب پڑھنا شروع کر دیتے ہیں بغیر اس کے کہ انھوں نے زندگی کی زبان سیکھی ہو۔ انھوں نے کہا کہ اس قول کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ خود اپنی مثال سے اس قول کا مطلب سمجھ سکتے ہیں۔ آپ ابھی ہندوستان کی خرابیوں کا ذکر کر رہے تھے کہ یہاں انصاف نہیں، یہاں مسلمانوں کے ساتھ تعصب کا معاملہ کیا جاتا ہے، وغیرہ۔ یہ زبان جو آپ بول رہے ہیں اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں، موجودہ زمانہ کے اکثر مسلمانوں کی بولی یہی ہے۔ یہ صحیح زبان نہیں۔ اگر آپ کو یہی زبان معلوم ہے تو یہ زبان آپ کو زندگی کی کتاب کو سمجھنے میں مدد نہیں دے سکتی۔ میں نے کہا کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو آزادی ہے۔ اس لئے یہاں آپ بالکل اپنی مرضی کا ماحول نہیں پا سکتے۔ یہاں لوگ اپنی آزادی کا غلط استعمال کریں گے۔ اس لئے یہاں آئیڈیل زندگی کا بننا ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی نام ہے معیار سے کم (less than ideal) پر راضی ہونے کا۔ معیار سے کم پر راضی ہونے والا آدمی اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے۔ جو لوگ معیار سے کم پر راضی نہ ہوں ان کو اس دنیا میں شکایت اور مایوسی کے سوا کچھ اور نہیں مل سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader