ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے پوچھا کہ کیا آپ ہندوستانی ٹی وی دیکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کبھی کبھی دیکھ لیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہندوستانی حکومت ٹی وی کو مسلسل اور منظم طور پر بھارتی سنسکرتی اور ہندوستان کی قدیم تہذیب کا پروپیگنڈا کرنے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ اس نے ٹی وی کو بھارت کی مشرکانہ اور ہندوانہ تہذیب کے پرچار کا ادارہ بنا دیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں جانتا ہوں ۔ مگر اس بظاہر عصر میں بھی یہ سر کا پہلو چھپا ہوا ہے۔ ٹی وی کا محکمہ اپنے خیال کے مطابق، ہندو اور تہذیب کا پرچار کر رہا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح ہندوانہ تہذیب بے نقاب expose ہو رہی ہے۔ اس تہذیب میں جدید انسان کے لئے کوئی کشش نہیں۔ یقینی ہے کہ یہ برعکس نتیجہ پیدا کرنے والا (counter productive) ثابت ہوگا۔ گویا کہ جو کام اہل توحید کو کرنا تھا وہ خود اہل شرک کر رہے ہیں۔ نتیجہ کے اعتبار سے یہ "لاالہ" کا اعلان ہے۔ آپ کوشش کیجئے کہ آپ اس کی تکمیل کریں۔ اور اس کے بعد وہ دن آئے کہ آپ لوگوں کے سامنے الا اللہ کا اعلان کر سکیں۔ یکم فروری ۱۹۹۲ 1955 میں مڈل ایسٹ کے تحفظ کا ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس میں ترکی، عراق، ایران، پاکستان شامل تھے۔ اسی کے ساتھ، برطانیہ (گریٹ برطانیہ) کو بھی اس میں شریک کیا گیا تھا۔ ابتدا میں اس کا نام بغداد پیکٹ تھا ۔ بعد کو وہ سنٹو کے نام سے مشہور ہوا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم حسین شہید سہروردی (۱۹۶۳ - ۱۸۹۳) سے کسی نے کہا کہ یہ تو شرق اوسط کے تحفظ کا معاہدہ ہے، پھر اس میں برطانیہ کو کیوں شریک کیا گیا ہے۔ سہروردی نے جواب دیا کہ برطانیہ کی شرکت ہی کی بنا پر تو اس معاہدہ کی قیمت ہے۔ ورنہ مسلم ملکوں کی حیثیت تو زیرو کی ہے۔ اور زیرو خواہ کتنے ہی ہوں، ان کا مجموعہ پھر بھی زیرو ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ زیرو پلس زیرو پلس زیرو پلس زیرو پلس زیرو از ایکول ٹو زیرو ۔ تاجکستان سابق سوویت یونین کا حصہ تھا۔ پہلے وہاں صرف ۸ مسجدیں تھیں۔ پرسترائیکا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader