Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

خبریں میں بتایا گیا ہے کہ لندن میں ایک اسٹڈی کی گئی جس میں تین سو بچوں کو لیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن بچوں کو چھاتی کا دودھ پلایا گیا تھا وہ ذہانت میں نمایاں طور پر فائق تھے۔ ڈاکٹر آلان لو کاس (Alan Lucas) نے کہا کہ یہ اسٹڈی اگر چہ قطعی ثبوت نہیں ہے۔ مگر وہ بہت مضبوط شہادت ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ چھاتی کے دودھ میں کوئی ایسا غیر معلوم جزو ہوتا ہے جو ذہن کی ترقی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ۶ فروری ۱۹۹۲ آج صبح کو اشراق کے وقت دو رکعت نماز پڑھ رہا تھا۔ نماز کے دوران اچانک یہ احساس ہوا کہ نماز عبادت کی آخری صورت ہے۔ اس سے آگے عبادت کی کوئی اور صورت تجویز نہیں کی جاسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جو چیزیں بھی بنائی ہیں وہ سب کی سب اپنے آخری نمونہ پر ہیں۔ شیر کا جو ماڈل ہے وہ اس کا آخری ماڈل ہے۔ اس سے آگے شیر کا کوئی اور ماڈل سوچا نہیں جاسکتا۔ چڑیا کا جو ماڈل ہے وہ اس کا آخری ماڈل ہے۔ کسی آرٹسٹ کے لئے ممکن نہیں کہ وہ چڑیا یا اس سے بہتر کوئی اور ماڈل بناسکے۔ حتیٰ کہ گھاس کا جو ماڈل ہے وہ بھی اس کا آخری موزوں ترین ماڈل ہے۔ اس سے آگے گھاس کا کوئی اور ماڈل تصور میں نہیں آتا۔ یہی معاملہ دنیا کی ہر چیز کا ہے۔ اسی طرح نماز کی جو صورت تجویز کی گئی ہے وہ بھی اس کی آخری کامل صورت ہے۔ اس کے آگے عبادت کی کوئی اور صورت تصور میں نہیں آتی۔ یہی اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ نماز کی صورت خدا کی طرف سے مقرر کی ہوئی ہے۔ کوئی انسان ایسی کامل صورت تجویز کرنے پر قادر نہیں۔ ۷ فروری ۱۹۹۲ اوکھلا (نئی دہلی) میں ایک مسجد چھپر والی کے نام سے مشہور ہے۔ اس مسجد کے سامنے ہیر کٹنگ کی ایک دکان ہے۔ دکاندار کا نام محمد یاسین (۳۵ سال) ہے۔ وہ اس دکان میں بطور کرایہ دار ہیں۔ ایک سال پہلے ان کے مسلمان مالک مکان نے آکر کہا کہ آپ دکان خالی کردیں۔ اس وقت محمد یاسین صاحب کسی کاشیو بنا رہے تھے۔ انھوں نے مالک سے کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page