Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاں میرا اللہ لے جائے گا وہاں چلا جاؤں گا۔ اس کے بعد مالک نرم پڑ گیا۔ اور موافقت کی بات کرنے لگا۔ آخر یہ طے ہوا کہ محمد یا بین صاحب آدھی دکان اپنے پاس رکھیں اور بقیہ آدھا حصہ خالی کر دیں۔ محمد یا بین صاحب فوراً راضی ہو گئے۔ اس وقت سے وہ اس دکان کے نصف حصہ میں ہیں۔ البتہ کرایہ پہلے کی طرح پورا دے رہے ہیں۔ بقیہ نصف حصہ میں دوسرا کرایہ دار ہے۔ وہ بھی اتنا ہی کرایہ دے رہا ہے۔ اس طرح مالک کو دگنا کرایہ مل رہا ہے۔ اور یہی اس کا اصل مقصد تھا۔ (حسب روایت ڈاکٹر انور عباس، ڈائریکٹر ) ۸ فروری ۱۹۹۲ء جاوید احمد (سمستی پور) نے تاریخ میں آنر س کیا ہے۔ اب وہ دہلی میں ایڈمیشن کے لئے آئے ہیں۔ ملاقات کے وقت انہوں نے بتایا کہ ان کے یہاں دو مسلمان محی الدین اور سعید اختر، تین سال سے مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ اور دونوں کی معاشیات تباہ ہورہی ہیں۔ اور ابھی تک مقدمہ بازی ختم ہونے کے آثار نہیں۔ دونوں مسلمانوں کا کھیت ملا ہوا ہے۔ محی الدین کے کھیت میں مینڈ کی طرف بانس آگ آیا جو بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ کچھ بانس سعید اختر کے کھیت کی طرف نکل آئے۔ سعید اختر نے کہا کہ اپنا بانس کاٹو۔ محی الدین فوراً کاٹنے پر راضی نہ ہوئے۔ ایک روز سعید اختر اپنے لڑکے کو لے کر کھیت پر گئے اور خود بانس کاٹنا چاہا۔ محی الدین نے مزاحمت کی۔ دونوں میں لڑائی ہو گئی یہاں تک کہ معاملہ عدالت میں پہنچ گیا۔ اب دونوں ایک دوسرے کو پریشان کرنے کے لئے نئے نئے مقدمات ایک دوسرے کے خلاف دائر کرنے لگے۔ یہاں تک کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page