Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ وہ بدکلامی کرتا ہے۔ حالانکہ روزہ کے ساتھ بدکلامی کا جمع ہونا ممکن نہیں۔ مسلمان سمجھتا ہے کہ وہ زکوٰۃ وخیرات دے رہا ہے اور اسی کے ساتھ وہ دوسروں کی بدخواہی بھی کرتا ہے۔ حالانکہ زکوٰۃ وصدقات سے خیرخواہی کا جذبہ پیدا ہونا چاہئے نہ کہ بدخواہی کا جذبہ۔ اسی طرح مسلمان اپنے کو حاجی سمجھتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ اختلاف برپا کرتا ہے۔ حالانکہ حج کا تقاضایہ ہے کہ آدمی کے اندر سے اختلاف اور تفرق کا مزاج ختم ہو جائے۔ ۲۷ جنوری ۱۹۹۱ تمام مسلمان یہ جانتے ہیں کہ ان کے اوپر یہ دعوتی فریضہ ہے کہ وہ اسلام کا پیغام غیرمسلموں تک پہنچائیں۔ مسلم علماء دعوت وتبلیغ کا نام بھی لیتے رہے ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں دعوتی عمل مسلمانوں کے درمیان جاری نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داعی کو مدعو کی زیادتیوں پر صبر کرنا پڑتا ہے۔ مسلمانوں نے صبر نہیں کیا۔ اس لئے وہ داعی بھی نہ بن سکے۔ ۱۸۵ء کے بعد علماء کے پورے گروہ نے انگریزوں کے خلاف نفرت بھڑکاٹی۔ انگریز کو سب سے بڑے دشمنِ اسلام کے روپ میں پیش کیا۔ ایسی حالت میں ناممکن تھا کہ مسلمان انگریزوں کے اوپر دعوتی عمل کے لئے اٹھیں۔ مسلم لیگ نے ہندوؤں کے خلاف نفرت کا ہنگامہ جاری کیا۔ مسلمانوں کی نظر میں ہندو ایک نہایت بری قوم بن گئے۔ اس کے بعد ممکن نہیں تھا کہ مسلمان ہندوؤں کو دینِ رحمت کا مخاطب بنائیں۔ آجکل مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے امریکیوں (اور عیسائیوں) کے خلاف نفرت کا طوفان برپاکیئے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں یہی ممکن ہے کہ امریکی اور عیسائی مسلمانوں کی نظر میں آخری حد تک مبغوض ہوجائیں۔ اور بغض وعداوت کی نفسیات دعوتی عمل کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ۲۶ جنوری کو غازی آباد میں ہندومسلم فساد ہو گیا۔ دس سے زیادہ آدمی مارے گئے اور ۵۰ سے زیادہ آدمی زخمی ہوئے۔ گھروں اور دکانوں کو لوٹنے اور جلانے کے جو واقعات ہوئے وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page