ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے علاوہ ہیں۔ ۲۶ جنوری کو ہندوستان میں ہر سال یوم جمہوریہ (یہی پبلک ڈے) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عین اسی دن غازی آباد کے مسلمانوں نے امریکہ کے خلاف جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا۔ انتظامیہ نے کہا کہ آپ ۲۶ جنوری کو جلوس نہ نکالئے۔ مگر وہ راضی نہ ہوئے۔ مسلمانوں کا جلوس جارج بش کا پتلا لے ہوئے چل رہا تھا۔ وہ کیلا بھٹہ چوک پر پہنچا۔ یہاں کچھ ہندو لڑکے ۲۶ جنوری کے سلسلہ میں ایک کلچرل پروگرام کر رہے تھے۔ انھوں نے سڑک کے اوپر ٹنٹ لگا رکھا تھا۔ مسلمان جب وہاں پہنچے تو انھوں نے کہا کہ اپنا ٹنٹ ہٹاؤ۔ ہندو نوجوان ٹنٹ ہٹانے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس پر تکرار اور جھگڑا ہوا یہاں تک کہ باقاعدہ لڑائی شروع ہو گئی۔ اینٹ، بوتل، چھرا چلنے لگا۔ آخر کار لوٹنے اور جلانے کی نوبت آگئی (ٹائمس آف انڈیا ۲۸ جنوری ۱۹۹۱)، بش کا پتلا نہیں جلا، البتہ مسلمان جل گئے ۔ ہندوستان کے بیشتر فرقہ وارانہ فسادات اسی قسم کے جھگڑوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو یک طرفہ طور پر اپنے حصہ کا فساد ختم کرنا چاہئے۔ جب تک مسلمان ایسا نہیں کریں گے اس ملک سے خونی فسادات بھی ختم نہیں ہوں گے۔ ۲۹ جنوری ۱۹۹۱ سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ یہ سورہ گویا بندہ اور خدا کا مواجہ ہے۔ جب ایک شخص سچے دل سے سورہ فاتحہ کو پڑھتا ہے تو خدا اس کے بارہ میں اپنے فرشتوں سے کہتا ہے ۔ میں وہی ہوں جس کا اس نے اعتراف کیا، اور اس کے لئے وہی ہے جو اس نے مانگا۔ ۳۰ جنوری ۱۹۹۱ مولانا محمد تقی امینی ۵ مئی ۱۹۲۶ کو سبمعه (بارہ بنکی) میں پیدا ہوئے۔ ۲۱ جنوری ۱۹۹۱ کو علی گڑھ میں ان کی وفات ہوئی۔ مولانا مرحوم کے ساتھ میری زندگی کے کئی عبرت انگیز واقعات وابستہ ہیں۔ جون ۱۹۶۶ میں جب میں نے مجلس تحقیقات و نشریات اسلام (لکھنؤ) کو چھوڑ دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader