ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں کرتا رہتا ہے۔ تین سال کے عرصہ میں دونوں میں سے کسی نے کچھ نہیں پایا۔ البتہ دونوں کا گھر ویران ہوگیا۔ اس دنیا میں ہمیشہ چھوٹے نقصان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جو آدمی چھوٹے نقصان کو برداشت کرنے پر راضی نہ ہو اس کو لازماً بڑا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ ۹ فروری ۱۹۹۲ ٹائمز آف انڈیا (۳ فروری ۱۹۹۲) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ میں انڈیا کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم، (per cent 0.5) ہے۔ موجودہ انڈیا نہرو کی دین ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جواہر لال نہرو انڈیا کو عالمی نقشہ پر لے آئے۔ مگر آخری نتیجہ بتاتا ہے کہ انڈیا کے اسٹیج کو استعمال کر کے وہ اپنی شخصیت کو عالمی نقشہ پر لائے نہ کہ خود انڈیا کو۔ ان کے زمانہ حکومت میں ہر جگہ ان کی ذاتی دھوم رہی۔ مگر انڈیا کسی اعتبار سے ترقی نہ کر سکا۔ یہی حال مسلم رہنمائوں کا بھی ہے۔ ہر مسلم رہنما کہہ رہا ہے کہ وہ اسلام کو عالمی سطح پر نمایاں کرنا چاہتا ہے۔ مگر عملاً صرف اس کی اپنی شخصیت نمایاں ہورہی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو مسلم رہنمائوں اور غیر مسلم رہنمائوں میں کوئی فرق نہیں۔ ۱۰ فروری ۱۹۹۲ آدمی کو مختلف قسم کی لذتیں حاصل ہیں۔ ہر آدمی ان لذتوں سے محظوظ ہوتا ہے ــ لذت فکر، لذت دید، لذت ذائقہ، لذت سامعہ، لذت شمامہ، وغیرہ۔ مگر شاید ہی کوئی آدمی ہو جو سوچتا ہو کہ لذت اللہ تعالی کی ایک انوکھی تخلیق ہے۔ اس کائنات میں صرف انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جس کو لذت کا احساس ملا ہوا ہے۔ انسان کے سوا وسیع کائنات میں کسی کو بھی لذت احساس حاصل نہیں۔ دور جدید کا ایک کار خانہ انسان کی صورت کی ایک مشین بنا سکتا ہے۔ یہ مشینی انسان بہت سے انسان جیسے کام بھی کر سکتا ہے۔ مگر کوئی کار خانہ کمی مشینی انسان کے اندر لذت احساس پیدا نہیں کر سکتا۔ آدمی اگر خدا کی دی ہوئی اس نعمت پر غور کرے تو وہ شکر کے سمندر میں غرق ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader