Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نے ملکہ ازابیلا سے نکاح کر کے اپنی سلطنت کا رقبہ بہت بڑا کر لیا ۔ اور اس کے بعد اس کے لئے آسان ہو گیا کہ اسپین کی مسلم سلطنت کو شکست دے کر اس کا خاتمہ کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ مسلم حکمرانوں کے لئے ایک نمونہ تھا۔ مگر بعد کے مسلم حکمران اس سے نصیحت نہ لے سکے ، اس لئے وہ اس حکیمانہ تدبر کو اپنی زندگی میں اختیار بھی نہ کر سکے۔ ۱۳ فروری ۱۹۹۲ ولیم بلیک (William Blake) ایک انگریز شاعر تھا۔ وہ لندن میں ۱۷۵۷ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۲۷ء میں وہیں اس کی وفات ہوئی ۔ اس کا ایک قول ہے کہ تم بھی نہیں جانتے کہ کافی کیا ہے جب تک تم یہ جان لو کہ کافی سے زیادہ کیا ہے : اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ آدمی قناعت کے مسلک پر اس وقت قائم ہو سکتا ہے جب کہ وہ ضرورت اور حرص کے فرق کو جان لے۔ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے بقدر ضرورت کو حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اپنے بقدر حرص کو حاصل کرنا اس دنیا میں کسی بھی شخص کے لئے لاممکن نہیں، کیوں کہ ضرورت کی حد ہے، مگر حرص کی کوئی حد نہیں۔ ۱۴ فروری ۱۹۹۲ عبدالفتاح ربٹ ایم اے (۳۰ سال)، ڈوڈہ کشمیر کے رہنے والے ہیں۔ وہ وہاں ہائی اسکول میں ٹیچر ہیں۔ ان کی فرمائش پر میں نے ان کی نوٹ بک پر حسب ذیل الفاظ لکھے : اللہ اکبر (اللہ بڑا ہے)۔ اس کا ایک سیدھا مطلب ہے۔ اور اس کا ایک الٹا مطلب ہے۔ اگر آپ کہیں کہ اللہ بڑا ہے، اس لئے میں بڑا انہی ہوں! تو آپ نے اس کا سیدھا مطلب لیا۔ ایسا کلمہ آپ کو چھوٹا بنائے گا۔ اس سے آپ کے اندر عجز اور تواضع کا مزاج پیدا ہوگا جو کہ دین کی اصل روح ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ کہیں کہ اللہ بڑا ہے اس لئے تم بڑے نہیں ہو تو یہ اس کا الٹا مطلب ہوگا۔ اگر آپ کے ذہن میں یہ الٹا مطلب آجاۓ تو آپ کا حال یہ ہوگا کہ آپ خود اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page