ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
اصلاح سے غافل ہو جائیں گے ۔ البتہ اللہ کے نام پر دوسروں کو چھوٹا کرنے کا جھنڈا اٹھائیں گے۔ اس کے بعد آپ کے اندر جو مزاج پیدا ہوگا وہ سرکشی اور ذاتی بڑائی کا مزاج ہوگا۔ " اللہ اکبر " کا سیدھا مطلب لینے والوں سے دنیا کو امن کا تحفہ ملتا ہے ، اور اللہ اکبر کا الٹا مطلب لینے والوں سے صرف فساد کا۔ ۱۵ فروری ۱۹۹۲ء ایک مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے ایک بار ایک مسلم نوجوان کے سامنے مسلمانوں کے شاندار ماضی کی بات کی۔ اور کہا کہ قدیم زمانہ میں مسلمانوں نے بڑی بڑی ایجادات کی تھیں۔ یہ سن کر مسلم نوجوان نے تلخ لہجہ میں بجلی کے پنکھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب یہ پنکھا بھی مسلمانوں نے ہی ایجاد کیا ہوگا۔ (دین مبین، بھوپال، فروری ۱۹۹۲) یہ سطریں میں نے پڑھیں تو میں نے سوچاکہ مفتی صاحب قوم کی عظمت میں کھوئے ہوئے ہیں، اس لئے مذکورہ نوجوان کا جواب ان کی سمجھ میں نہ آیا۔ اگر وہ اسلام کی عظمت کو جانتے تو وہ کہتے کہ بجلی کے پنکھے کو تو مسلمانوں نے ایجاد نہیں کیا۔ مگر اسلام نے ضرور اس کو ایجاد کیا ہے۔ پچھلے زمانوں میں شرک (فطرت پرستی) کا عقیدہ سائنسی ترقیوں کی راہ میں ایک ذہنی رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اسلام نے مشرکانہ عقیدہ کو ختم کرکے توحید کا ذہن پیدا mental block کیا ۔ اس کے بعد ہی دنیا میں سائنسی ترقیات کا راستہ کھلا جس کا ایک نتیجہ بجلی کا پنکھا ہے۔ ۱۶ فروری ۱۹۹۲ء قرآن کی آیت (شاکلہ (الاسراء ۸۴)، پر غور کرنے سے اور اس نوعیت کے تجربات کو دیکھ کر میں اس رائے پر پہنچا ہوں کہ آدمی اسی بات کو سمجھ پاتا ہے جس سے اس کا شعور پہلے سے آشنا ہو۔ جو بات اس کے زندہ شعور میں موجود نہ ہو اس کو وہ سمجھ بھی نہیں پاتا۔ موجودہ مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ دورِ اول کا اسلام ان کے زندہ شعور سے خارج ہو چکا ہے۔ اسلام کے نام پر اس کے پاس دورِ بعد کے دور کی اسلامی تاریخ کو جانتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader