ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
اب وہ تواضع والے دین کے بجائے عظمت والے دین سے باخبر ہیں۔ اب وہ صبر کی اصطلاح میں سوچنے کے بجائے صرف جہاد کی اصطلاح میں سوچنا جانتے ہیں۔ وہ دعوت سے بے خبر ہیں، البتہ امامت کا سبق انھوں نے مبالغہ کے ساتھ پڑھ رکھا ہے۔ وہ امت کی مسئولیت کو نہیں جانتے، البتہ امت کا خیر امت ہونا انھیں خوب معلوم ہے۔ ایسی حالت میں جب تک مسلمانوں کے شاکلہ کی تصحیح نہ کی جائے ان کی حقیقی اصلاح ہرگز ممکن نہیں۔ ۱۸ فروری ۱۹۹۲ء عرب کا قدیم دور شاعری کا دور تھا۔ اس زمانہ میں شعر گوئی کی بدولت آدمی شہرت، عزت اور سرداری حاصل کرلیتا تھا۔ اس زمانہ میں ایک عرب شاعر نے کہا کہ جب میں ایک شعر کہتا ہوں تو سارا زمانہ میرے اس شعر کو پڑھنے لگتا ہے: اذ اقتلت شعراً اصبح الدهر منشداً موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور اسی قدیم جاہلی دور میں جی رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ "شعر" کی زبان میں ایک بات کہہ دیں تو تمام دنیا کے لوگ اس پر سر دھننے لگیں گے۔ چنانچہ تمام اہلِ دانش شعرا و خطابت اور انشاء پردازی کا در یا بہانے میں مشغول ہیں۔ ان کو نہیں معلوم کہ موجودہ زمانہ میں شاعرانہ اسلوب متروک ہو چکا ہے۔ اب دنیا میں جس اسلوب کی اہمیت ہے وہ سائنٹفک اسلوب ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں چھپنے والی بے شمار کتابوں میں شاید ایک کتاب بھی نہیں جو سائنٹفک اسلوب میں لکھی گئی ہو۔ ۱۸ فروری ۱۹۹۲ مولانا ابوالحسن علی ندوی کی خود نوشت سوانح عمری "کاروان زندگی "کا حصہ اول پڑھا۔ اس کو پڑھ کر جو تاثر ہوا وہ یہ تھا: لوگ خدا کو بھول کر انسان کی عظمتوں میں گم ہیں۔ اور اس کو ایمان سمجھتے ہیں۔ لوگوں کو جوش پیدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader