ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
کا ان کے یہاں کوئی تذکرہ نہیں۔ خدا اس انتظار میں ہے کہ اس کی حمد کی جائے۔ مگر کتاب کا باب کا باب ختم ہوتا چلا جاتا ہے اور قاری کو وہ صفحہ نہیں ملتا جہاں مصنف کا تسلیم خدا کی کبریائی بیان کرنے کے لئے وجد میں آگیا ہو، زندگی کا کارواں کہیں بھی خدا کی آلا سے بھری ہوئی دنیا میں سفر کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اپنے اکابر کے تذکروں سے سفر شروع ہوتا ہے اور انہی کے تذکرہ پر ختم ہو جاتا ہے۔ ۱۹ فروری ۱۹۹۲ فقہاء کے یہاں یہ بات متفق علیہ ہے کہ زمانہ اور حالات کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں (تتغیر الاحکام بتغیر الزمان)۔ ابن قیم نے اپنی مشہور کتاب اعلام الموقعین میں " فصل فی تغير الفتوى بتغير الزمان" کے الفاظ میں ایک مستقل باب قائم کیا ہے اور اس میں اس موضوع پر قیمتی بحث کی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک قیمتی ذخیرہ حافظ ابن تیمیہ کے فتاویٰ ( فتاوی ابن تیمیہ) میں ہے جو ۳۵ جلدوں میں بیروت سے شائع ہوئی ہے۔ وہ مجموعی طور پر ۱۹ ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ بیروت کے ڈاکٹر منجد نے فتاوی ابن تیمیہ میرے لئے بحری ڈاک سے بھیجی تھی ۔ مگر معلوم نہیں کیا بات پیش آئی، وہ مجھ تک نہ پہنچ سکی۔ ۳۰ فروری ۱۹۹۲ مولانا محمد حمید اللہ صاحب ایک کشمیری ہیں۔ وہ اسلام آباد کے پاس کھانڈی پورہ میں ایک مدرسہ چلاتے ہیں۔ بقدر ضرورت انگریزی بھی جانتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دو سال پہلے وہ سرینگر میں تھے۔ وہاں انھوں نے ایک مغربی نوجوان کو دیکھا۔ وہ ایک دکان سے ہانسی خرید رہا تھا۔ اس سے انھوں نے قیاس کیا کہ اس کے اندر روح وحانی مزاج ہے۔ انھوں نے اس سے بات کی ۔ اور پھر اس کو اپنے مدرسہ میں لے گئے۔ وہ کناڈا کے ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ میرا مزاج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader