Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

تین دن تک مدرسہ کے ماحول میں رہا۔ اس کے بعد اس نے اسلام قبول کرلیا۔ کہا جاتا ہے کہ نیوٹن نے ایک سیب کو درخت سے زمین پر گرتے ہوئے دیکھا۔ اس پر وہ سوچنے لگا کہ سیب نیچے کیوں گرا۔ یہاں تک کہ اس نے قوت کشش کا قانون دریافت کیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سائنس داں نے کہا کہ نیوٹن کو اس پر تعجب تھا کہ سیب نیچے کیسے آیا۔ مجھے اس پر تعجب ہے کہ سیب اوپر کیسے گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائناتی واقعات کی مادی توجیہہ ممکن نہیں۔ بظاہر کچھ واقعات کو دیکھ کر نظر آئے گا کہ وہ مادی توجیہہ کو قبول کر رہا ہے۔ مگر زیادہ وسیع مطالعہ بتائے گا کہ واقعات کو سمجھنے کے لئے مادی توجیہہ سراسر ناکافی ہے۔ ۲۲ فروری ۱۹۹۲ مولاناحسین احمد مدنی کا معمول تھا کہ جب وہ خط لکھتے تو آخر میں اپنے دستخط کے ساتھ " ننگ اسلاف " لکھا کرتے تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے ماہنامہ " دارالعلوم " کے شمارہ فروری ۱۹۹۲ میں مولاناموصوف کے ایک شاگرد محمد صفات اللہ قاسمی کا ایک مضمون فرقہ وارانہ فسادات کے بارے میں چھپا ہے۔ اس کے آخر میں شاگرد موصوف نے جہاں اپنا نام لکھا ہے، اسی کے ساتھ " ننگ مدنی " کا لفظ بھی شامل کیا ہے۔ یہ طریقہ میرے نزدیک ایک بدعت ہے اور بدعت سے کبھی خیر ظاہر نہیں ہوسکتا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو " ننگ انبیار " نہیں فرمایا۔ آپ کے بعد ابو بکر وعمر نے اپنے آپ کو " ننگ صحابہ " نہیں کہا۔ اس کے بعد عمر بن عبد العزیز آئے مگر انھوں نے اپنے نام کے ساتھ کبھی " ننگ خلفار " کا لفظ نہیں لکھا۔ دور اول میں جو طریقہ رائج نہ رہا ہو اس کو بعد کے دور میں اختیار کرنا اسی کا نام " بدعت " ہے۔ ایک صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ ابھی ان سے گفتگو شروع ہوئی تھی کہ اچانک رونے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page