Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر مہینہ تھوڑی تھوڑی رقم بچا کر بینک میں جمع کی تھی۔ اب یہ رقم گیارہ ہزار روپے ہو گئی تھی۔ ایک شخص نے باتیں بنا کر انہیں متاثر کیا اور گیارہ ہزار روپے انہوں نے اس آدمی کو بطور قرض دے دیا۔ اس کے بعد وہ آدمی بھاگ گیا۔ دو مہینے گزر گئے اور اب تک اس کا کوئی پتہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جینے کا حوصلہ کھو دیا ہے۔ حتی کہ خدا سے بھی میرے اندر شکایت پیدا ہو گئی ہے۔ میں نے انہیں سمجھایا، ڈھارس دلائی۔ آخر میں میں نے انہیں گیارہ روپیہ دیا اور کہا کہ جس بینک میں آپ کی رقم تھی وہاں اس کو جمع کر دیں۔ میں نے مزید کہا کہ آپ ہی گیارہ روپیہ اس کو بدلے بغیر جمع کریں۔ انشا اللہ اس میں برکت ہوگی اور دوبارہ آپ کے بینک میں گیارہ ہزار روپے جمع ہو جائیں گے۔ یہ میں نے ایک نفسیاتی تدبیر کے طور پر کیا۔ بعد کو میں نے سوچا کہ بزرگوں کے بارہ میں اس قسم کے بہت سے واقعات جو مشہور ہیں وہ حقیقتاً اسی طرح کی نفسیاتی نوعیت کے ہیں۔ بعد کو لوگوں نے اس کو خوش عقیدگی کے تحت مقدس اور پر اسرار بنا دیا۔ ۲۴ فروری ۱۹۹۲ یہ ایک عام حقیقت ہے کہ قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ ایک قوم ابھرتی ہے وہ ترقی کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب کہ اس کی ترقی رک جاتی ہے۔ اس کے افراد محبود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تمام لوگ اس کو بطور تاریخی حقیقت کے مانتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ عروج کے بعد زوال آنے کا سبب کیا ہے۔ سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ ان کے درمیان چیلنج کا ختم ہو جانا ہے۔ چیلنج ہی وہ چیز ہے جو فرد یا قوم کو اوپر اٹھاتا ہے اور جب چیلنج باقی نہ رہے تو اوپر اٹھنا بھی رک جاتا ہے۔ کوئی خاندان یا کوئی قوم جب ترقی کرتے کرتے سب کچھ حاصل کر لیتا ہے تو اس کے بعد افراد کو زندگی کے ساز و سامان کسی خاص جد و جہد کے بغیر ملنے لگتے ہیں۔ بس یہیں سے ان کا منزل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page