ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
شروع ہو جاتا ہے۔ یہ عمل جاری رہتا ہے یہاں تک کہ ایک عرصہ کے بعد تمام افراد جمود ، بے عملی اور آرام طلبی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی حالت کا نام زوال ہے۔ موجودہ زمانہ میں امریکہ کی ترقی کا راز یہ ہے کہ انھوں نے اپنے یہاں نہایت سخت قسم کا کمپٹیشن قائم کر دیا۔ ان کا ماحول کرو یا مرو کا ماحول ہے۔ اس لئے امریکہ کا ہر آدمی ہر لمحہ الرٹ رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر میں نے لیاقت نہیں دکھائی تو میرا خاتمہ ہو جائے گا ۔ یہاں ہر آدمی اپنی صلاحیت کے آخری حد پر عمل کرتا ہے۔ جبکہ ہندوستان میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ۲۶ فروری ۱۹۹۲ مجھ کو حجۃ اللہ البالغہ (شاہ ولی اللہ) کی ضرورت تھی۔ اس کے لئے آج میں جامعہ ملیہ گیا۔ کہ وہاں کی لائبریری سے اس کو حاصل کروں۔ وہاں پہنچا تو تمام گیٹ بند تھے۔ سڑک پر بڑی تعداد میں طلبہ گھوم رہے تھے۔ جگہ جگہ پولیس کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ کل ایک جھگڑا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے طلبہ کی یونین نے عام اسٹرائیک کر دی۔ سڑک پر سیکڑوں کی تعداد میں مسلم نوجوان جوش میں گھوم رہے تھے۔ ایک مسلم نوجوان نے پر فخر انداز میں کہا : ہماری لڑائی اتھارٹی سے ہے۔ میں بند گیٹ کے باہر کھڑا ہی تھا اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔ اتنے میں کیمپس کے اندر سے ایک نوجوان طالب علم نکلا۔ وہ چہار دیواری پھاند کر میری طرف آیا۔ اور پوچھا کہ سر، آپ کہاں سے آئے ہیں اور آپ کو کیا کام ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے ایک کتاب چاہئے ۔ اس کے بعد اس نے کتاب کا نام اور میرا نام کا غذ پر لکھوایا اور دوبارہ اندر گیا۔ واپسی کے بعد اس نے بتایا کہ لائبریرین صاحب اپنے آفس میں موجود ہیں ، ان کو میں نے کاغذ دکھایا۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اس وقت میں اکیلا ہوں ۔ یہاں کوئی بھی آدمی موجود نہیں۔ اس لئے کتاب دینا ممکن نہیں۔ اس نے معذرت خواہانہ انداز میں یہ بات کہی۔ میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے بتایا : راجہ رام۔ ہماری لڑائی اتھارٹی سے ہے، یہ کہنے والے بے شمار ہیں مگر ایسے انسانوں سے دنیا خالی ہے جو یہ کہہ سکیں کہ ہماری لڑائی خود اپنی خواہشات سے ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader