Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کشمیری مخالفین کو آپ میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ آپ لوگ الرسالة کے خلاف جو مضامین لکھ رہے ہیں اس کو آپ بازار کی سیاہی سے لکھ رہے ہیں۔ مگر الرسالة خون کی سیاہی کے ذریعہ لکھا جاتا ہے۔ اور جو چیز خون کی سیاہی سے لکھی جائے، اس کو بازار کی سیاہی نہیں مٹا سکتی۔ ۲۸ فروری ۱۹۹۲ ایک دیوبندی عالم آزادی (۱۹۳۷) سے پہلے انگریزوں کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کرتے تھے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ انگریزوں کی کوئی چیز اچھی بھی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ انگریزوں کے کباب اچھے ہوتے ہیں۔ (یعنی ان کو قتل کرکے ان کو اپنی تحریک انقلاب کی خوراک بنانا)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نو آبادیاتی دور میں ہمارے علماء کے اندر کتنا غیر معتدل ذہن پیدا ہو گیا تھا۔ یہی بڑھی ہوئی بے اعتدالی تھی جس کی بنا پر وہ مسلمانوں کی ثبت رہنمائی سے قاصر رہے۔ ۲۹ فروری ۱۹۹۲ جامعہ دار السلام عمر آباد کے ایک طالب علم نے بتایا کہ وہاں نومسلموں کی تعلیم کا خصوصی انتظام ہے۔ ان کے لئے ایک علیحدہ دار الاقامہ ہے۔ اس وقت اس میں تقریباً چالیس نومسلم رہتے ہیں، جو زیادہ تر نوجوان ہیں۔ یہ بات مجھے بہت پسند آئی۔ جامعہ دار السلام عمر آباد نے یہ بلا شبہ ایک نہایت مفید کام کیا ہے۔ یکم مارچ ۱۹۹۲ ۲۹ فروری اور یکم مارچ کو میں ایک سیمنار کے تحت لکھنؤ میں تھا۔ اس سیمنار میں تقریباً ملک کے سب جماعت اسلام کے افراد تھے کچھ رکن تھے اور کچھ ہمدرد اور متفقہ۔ میں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page