ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت مولانامرحوم مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ناظم دینیات تھے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھے بغیر بطور خود ہندوستان کے ان مسلم اداروں کے نام سفارشی خطوط لکھے جہاں لکھنے پڑھنے کا کام ہوتا تھا۔ مثلاً دارالمصنفین، معارف اسلام، ندوۃ المصنفین وغیرہ۔ مدارس عربیہ سے جو جرائد نکلتے ہیں ان کو بھی خطوط لکھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے کسی ادارہ میں جگہ مل جائے تاکہ میں وہاں رہ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرسکوں۔ مگر تمام کے تمام اداروں نے مجھ کو قبول کرنے سے معذرت ظاہر کی۔ اس سلسلہ میں انھوں نے تقریباً ایک درجن اداروں کے نام خطوط لکھے تھے۔ ان کے جوابات انھوں نے مجھے دکھائے تھے۔ ان جوابات میں میری صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا تھا۔ مگر براہ راست یا بالواسطہ انداز میں یہ شکایت کی گئی تھی کہ میرا مزاج تنقیدی ہے۔ اور اسی تنقیدی مزاج کی بنا پر ان کے ساتھ میرا نباہ نہ ہو سکے گا۔ ۳۱ جنوری ۱۹۹۱ ٹائمز آف انڈیا (۳۱ جنوری ۱۹۹۱) میں بتایا گیا ہے کہ اردن کے مسلمان خاص طور پر فلسطینی، آجکل سلام علیکم کی جگہ صدام علیکم کہہ رہے ہیں: How are the Jordanians greeting each other now: Saddam-u- Alaikum. (p. 9) عراق کے صدر صدام حسین نے ۲ اگست ۱۹۹۰ کو کویت پر فوجی قبضہ کر لیا۔ جب امریکہ نے مطالبہ کیا کہ کویت چھوڑ دو تو صدام حسین نے کہا کہ پہلے یہودیوں سے فلسطین چھڑواؤ، ہم کویت بھی چھوڑ دیں گے۔ اس کے بعد صدام حسین نے کچھ روسی میزائل (scuds) تل ابیب وغیرہ پر پھینکے۔ اس کے بعد صدام حسین مسلم دنیا کے ہیرو بن گئے۔ مذکورہ واقعہ اسی سلسلہ کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ دوسری طرف کویتیوں اور سعودی عربوں کے لئے یہ لطیفہ بنایا گیا ہے کہ اب وہ بسم اللہ کے بجائے بشم اللہ کہتے ہیں۔ (صدر امریکہ بش کے نام کے ساتھ)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader