ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور الاخوان المسلمون کے افراد ہر ایک کے بارہ میں سنجیدہ رہتے ہیں۔ مگر میرے مقابلہ میں وہ فوراً مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ دوسروں سے انھیں کوئی خطرہ نہیں۔ مگر میری باتیں ان کو اپنی تردید نظر آتی ہیں۔ ۴ مارچ ۱۹۹۲ محمد حمید اللہ لون (پیدائش ۱۹۵۵)، ناظم دارالعلوم سوا، السبیل، کھانڈ سی پورہ، کشمیر (192232 Pin) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ تین سال پہلے ایک روز وہ سرینگر کی سڑک پر چل رہے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک مغربی نوجوان ایک دکان کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ انھوں نے انگریزی میں بات کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ آپ کو کیا چاہئے۔ اس نے کہا کہ مجھے ایک بانسری کی ضرورت ہے۔ غالباً وہ میوزک کا طالب علم تھا۔ وہ ایک ٹور کمپنی کے ساتھ آیا تھا۔ اور تھیموں میں ٹھہرا ہوا تھا۔ حمید اللہ صاحب کو جب معلوم ہوا کہ وہ نوجوان بانسری کی تلاش میں ہے تو انھوں نے قیاس کیا کہ یہ روحانی مزاج کا آدمی ہے۔ وہ اس سے قریب ہوئے اور کہا کہ میرے ساتھ چلئے۔ میں آپ کو بانسری سے اچھی چیز دوں گا۔ اس نے کہا کہ میں آج نہیں چل سکتا۔ آپ فلاں تاریخ کو آئیے۔ حمید اللہ صاحب مقرر تاریخ اور وقت پر دوبارہ اس نوجوان سے ملے پھر اس کو اپنے مدرسہ میں لے گئے۔ وہاں وہ نوجوان تین دن رہا۔ حمید اللہ صاحب نے اس کو نیا کپڑا پہنایا۔ اس کو عزت کے ساتھ رکھا۔ کچھ اہل علم سے اس کو ملایا۔ اس کو اسلامی کتابیں پڑھائیں۔ آخر کار وہ مسلمان ہو گیا۔ اس کا نام ہاف مین (Mathew P. Hoffman) تھا (مسلم نام سجاد)، وہ نیویارک سے تعلق رکھتا تھا۔ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ایرانی سپہ سالار رستم جب مسلمانوں کو دیکھتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader