Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

(کتاب الآداب)، صفحہ ۱۵۲ اجتماعی آداب کی بے حد اہمیت ہے۔ پانچ وقت کی نماز باجماعت مکمل معنوں میں اجتماعی آداب کی تربیت ہے۔ اگر فی الواقع مسلمانوں کے اندر یہ اجتماعی آداب آ جائیں تو صرف یہی مسجد کا عمل ان کو بے پناہ بنا دینے کے لئے کافی ہوگا۔ ۴ مارچ ۱۹۹۲ قریبی پارک میں صبح کے وقت ٹہلنے کے لئے گیا۔ ایک کیاری میں خوش رنگ پھول کھلے ہوئے تھے۔ اس کو دیکھ کر اچانک زبان پر یہ الفاظ آگئے : دنیا کے پھول جب اتنے خوب صورت ہیں تو جنت کے پھول کتنے زیادہ خوبصورت ہوں گے۔ ۵ مارچ ۱۹۹۲ ڈنگ کمانڈر یوسف خاں صاحب وشنو دیوی کے مندر (جموں) گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں ہندو لوگ بے شمار پیسہ دیتے ہیں۔ مثلاً صرف ایک ہندو نے تیرہ لاکھ روپیہ کا نذرانہ دیوی جی کو پیش کیا۔ ہر روز وہاں یاتریوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ رواج کے مطابق اکثر لوگ وہاں اپنے بال کٹواتے ہیں۔ یہ کٹے ہوئے بال اتنے زیادہ ہو جاتے ہیں کہ مندر کے ذمہ دار ان کو ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ ان کے ذریعہ مندر کو سالانہ تقریباً ایک کروڑ روپیہ کی رقم حاصل ہوتی ہے۔ یہ برکتی مذہب کا کرشمہ ہے۔ جس طرح ہندوؤں میں اس مذہب کی دھوم ہے اسی طرح وہ مسلمانوں میں بھی زور و شور کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ ۶ مارچ ۱۹۹۲ مسز اوشا مہاجن ایک نہایت سمجھ دار خاتون ہیں۔ ان کے پاس ماروتی کار ہے۔ کار اچھی حالت میں ہے۔ البتہ اس کار کا رنگ کسی وجہ سے ہلکا پڑ گیا ہے۔ ان کے بارہ سال کے بیٹے نے کہا کہ گاڑی پر فرماں رنگ کر والیجئے۔ خاتون نے اپنے بیٹے کی بات کو سختی کے ساتھ کاٹتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page