ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے کہا : تم کو گاڑی کافی نہیں ، تم کو رنگ بھی چاہیے ۔ میری لڑکی فریدہ مذکورہ خاتون سے ملنے کے لئے آج ان کے گھر گئی تھیں۔ واپس آکر انھوں نے یہ قصہ بتایا جو خود ان کے سامنے گزرا تھا۔ میں نے اس قصہ کو سنا تو میں نے کہا کہ اسی کا نام تربیت ہے۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ کوئی ندہی کتاب بچہ کے ہاتھ میں دیدیتے ہیں۔ یا کوئی مضمون پڑھ کر سنا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے بچہ کی تربیت کا حق ادا کر دیا۔ مگر یہ تربیت نہیں۔ اصل تربیت یہ ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں بچہ کو عملی سبق دیا جائے۔ بچہ کی تربیت کی واحد تدبیر یہ ہے کہ گھر کو عملی تربیت گاہ بنا دیا جائے ۔ زبانی اپدیش سے کبھی بچہ کی تربیت نہیں ہوتی۔ نیز یہ کہ تربیت وہ مفید ہے جو بچہ کی نگری تصحیح کرے ، جو بچہ کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرے کہ وہ معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کے قابل ہو جائے۔ ۷ مارچ ۱۹۹۲ ریاض (سعودی عرب) میں ایک سیمنار ہونے والا ہے۔ اس کے لئے دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ میں " اثر العقیدۃ : فی تطبیق الشریعۃ " کے موضوع پر ایک مقالہ تیار کر رہا ہوں۔ اس موضوع پر سوچنے اور مطالعہ کرنے کے دوران کچھ نئے مضامین ذہن میں وارد ہوتے جو اس سے پہلے اس انداز میں میرے ذہن میں موجود نہ تھے۔ میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ میرے تمام مضامین اور کتابیں مخصوص حالات کے دوران تیار ہوئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں جن میں تخلیقی افکار ذہن میں پیدا ہوں اور کوئی نیا مضمون یا نئی کتاب تیار ہو سکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عجیب معاملہ ہے۔ ۸ مارچ ۱۹۹۲ آج رمضان ۱۴۱۲ھ کا دوسرا روزہ ہے۔ رات کو میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے۔ نے دیکھا کہ میرے والد فرید الدین خان آئے ہیں۔ وہ آکر میرے پاس کھڑے ہوگئے ۔ میں نے ان کے چہرہ کی طرف دیکھا۔ نہایت روشن چہرہ تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں کس طرح ان کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader