ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
استقبال کروں ۔ چنانچہ اظہارِ تعلق کے لئے میں ان کے پیروں پر گر پڑا ۔ میں دیر تک ان کے پیروں پر اپنا سر رکھے رہا ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے والد مرحوم کو خواب میں دیکھا ۔ کچھ نہیں معلوم کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے۔ ۹ مارچ ۱۹۹۲ روزہ کے بارہ میں اپنے ذاتی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا : اگر میں مذہبی آدمی نہ ہوتا تب بھی رمضان کے دنوں میں کھانا اور پینا میرے لئے سخت مشکل ہوتا ۔ کیوں کہ کھانے اور پینے کی چیزوں کا خالق میں نہیں ہوں بلکہ خدا ہے۔ اور ان چیزوں کو پیدا کرنے والا کہہ رہا ہے کہ اس مہینہ میں لوگ کھانا اور پانی چھوڑ دیں۔ وہ رات کو کھائیں مگر دن کو نہ کھائیں۔ ایسی حالت میں مجھے شرم آتی ہے کہ ان چیزوں کو کیسے کھاؤں جب کہ ان کا خالق اور مالک ان کو کھانے سے منع کر رہا ہے۔ ۱۰ مارچ ۱۹۹۲ آج ٹائمز آف انڈیا (۱۰ مارچ) کے صفحہ اول پر یہ خبر تھی کہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم مناہم سیمین کا تل ابیب میں انتقال ہو گیا : Menachem Begin is dead اس کے بعد اخبار کا آخری صفحہ الٹا تو اس میں سیمین کی ہنستی ہوئی تصویر تھی جس میں وہ ۱۹۷۸ میں کیمپ ڈیوڈ اکارڈ کے وقت، امریکی صدرجی کارٹر اور مصری صدر انور السادات سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ موت کی خبر کے فوراً بعد زندہ تصویر دیکھ کر اچانک ایسا محسوس ہوا گویا وہ "زندگی کے بعد موت" کے نظریہ کا ایک مظاہرہ ہے۔ گویا آدمی اس دنیا میں مر کر مابعد دوسری دنیا میں جی اٹھا ہے۔ سوڈان کے جنوبی حصہ میں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ یہ عیسائی منظم ہو کر آزاد مسیحی حکومت بنانے کی مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ جنوبی سوڈان کے اس حصہ میں ۱۹۸۳ سے سوڈان لبریشن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader