ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
آرمی کے نام سے مسلح عیسائی گورینلے شمالی علاقہ کے مسلمانوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اس علاقہ میں تیل کی تلاش کا کام رک گیا ہے۔ نیز اس جنگ کی وجہ سے اب تک حکومت سوڈان کو تقریبا چھ بلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ سوڈان کے فوجی حکمراں جنرل عمر بشیر نے ۱۹۸۹ میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ہی یہ اعلان کیا تھا کہ جنوبی سوڈان کے سبھی گوریلا اگر ہتھیار رکھ دیں تو ان کو معاف کر دیا جائے گا۔ اب تک وہ تین بار اس قسم کا اعلان کر چکے ہیں۔ مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ یہی کام سلمان نہ یادہ بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔ جہاں کسی خطہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہو وہاں وہ علیحدگی کی تحریک لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کی تحریک محض تباہی کی تحریک ہے خواہ اس کو مسلمان چلائیں یا غیر مسلم۔ ۱۲ مارچ ۱۹۹۲ صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر میں باب صلح الحدبیہ کے تحت البراء بن عازب کی روایت میں ہے کہ " محمد رسول اللہ کا لفظ لکھنے پر اہل مکہ نے اعتراض کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے کہا کہ اس کو مٹا دو۔ انھوں نے کہا کہ میں اس کو نہیں مٹاؤں گا۔ اس کے بعد روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دیا (فمحاه النبی صلى الله عليه وسلم بيده). روایت کے اس حصہ کو لے کر صحیح مسلم کے ایک شارح نے لکھا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا۔ آپ اگر چہ اّمی تھے۔ مگر آپ نے معجزہ کے طور پر اس کو جانا اور اس کو مٹا دیا۔ حالاں کہ اسی باب میں آگے دوسری روایت ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ جب حضرت علی نے مٹانے سے انکار کیا تو آپ نے کہا کہ مجھ کو وہ جگہ دکھاؤ۔ انھوں نے وہ جگہ آپ کو دکھائی پھر آپ نے اس کو مٹا دیا۔ (فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ارنی مکانھا فأراه مکانھا فمَحامّا). دونوں روایتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹانے کا واقعہ ایک سادہ واقعہ تھا مگر غیر منطقی مطالعہ کی بنا پر اس کو معجزہ بنا دیا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader