ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
امام ابو حنیفہ کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہشام بن عبدالملک کے خلاف زید بن علی کے خروج کے حامی تھے۔ مگر یہ حمایت ان کی اصولی سے زیادہ جذباتی نظر آتی ہے۔ شیخ الپزہرہ نے امام ابو حنیفہ کی بابت لکھا ہے کہ ان کے اندر شیعت تھی۔ اس خروج کی بابت امام ابو حنیفہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : خروجه بيضاهی خروج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يوم بدر (زید بن علی کا خروج بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خروج کے مشابہ ہے) شیخ الپزہرہ نے لکھا ہے کہ ابو حنیفہ نے زید بن علی کی فوج کی مال سے مدد کی۔ مگر ان کو زید بن علی کے ساتھیوں پر بہت کم بھروسہ تھا۔ اور اسی لئے انہوں نے ان کے ساتھ تلوار اٹھانے سے معذرت کی رو امتد جنده بالمال ولكنه كان ضعيف الثقة فى النصارۃ ولذ اقال فی الاعتذار عن حمل السيف معه - (ابو زهرة، ابوحنيفه : حياته وعصره، دارالفکر العربی قاهره، صفحه ۶۳ ) ۱۴ مارچ ۱۹۹۲ ایک عیسائی فادر نے کہا کہ عیسائیت میں محبت کی تعلیم ہے اور اسلام میں قتال کی تعلیم ۔ میں نے کہا کہ بات یوں نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ہی زندگی کی ضرورت ہیں۔ اور دونوں نہ ہوں میں دونوں باتوں کی تعلیم ہے۔ مگر آپ نے یہ کیا کہ مسیحیت سے آیت محبت لی اور اسلام سے آیت قتال لے لیا۔ آپ کا یہ تقابل غیر منطقی ہے۔ اگر میں ایسا کروں کہ مسیحیت سے آیت قتال (متی ۱۰: ۳۴ - ۳۵) لے لوں اور اسلام سے آیت محبت ، تو تصویر بالکل مختلف نظر آئے گی ۔ میرا تجربہ ہے کہ دنیا میں سب سے کم جو چیز نظر آتی ہے وہ وہ چیز ہے جس کو علمی اصطلاح میں منطقی طرزِ فکر اور اخلاقی اصطلاح میں منصفانہ طرزِ فکر کہا جاتا ہے۔ ۱۵ مارچ ۱۹۹۲ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ تصوف سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دور اول میں تصوف کا وجود نہ تھا۔ وہ بعد کو پیدا ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کی ذات لوگوں کی تربیت کا ذریعہ تھی۔ آپ کی وفات کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader