ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد جب آپ کی ذات دنیا میں نہ رہی تو بزرگوں نے "شیخ" کا طریقہ اختیار کیا۔ میں نے کہا کہ اس طرح دین میں ایک نئے ادارہ کا اضافہ یقینی طور پر ایک انحراف تھا۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت فرمایا تھا کہ میں تمہارے درمیان دو چیز چھوڑ کر جارہا ہوں ـــــ کتاب اللہ اور سنت رسول۔ تم جب تک اس کو پکڑے رہو گے، گمراہ نہ ہوگے۔ اس کے مطابق بزرگوں کو کہنا چاہئے تھا کہ رسول کے بعد اب قرآن وسنت ہمارے لئے ذریعہ ہدایت ہے۔ اس کو خوب پڑھو، اس میں تدبّر کرو۔ اس میں پوری طرح مشغول ہوجاؤ۔ اس سے تم کو دینی غذا ملتی رہے گی۔ اس کے بجائے بزرگوں نے خود ساختہ طور پر رسول اللہ کا ایک اور بدل ایجاد کیا اور اس کو امت کے درمیان رائج کر دیا۔ حالانکہ نہیں اس کا کوئی حق نہ تھا۔ ۱۶ مارچ ۱۹۹۲ ایک صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے انگریزی لٹریچر سے ایم اے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے ہندی زبان پڑھی۔ ان کو دونوں زبانوں پر اچھی قدرت حاصل ہے۔ وہ اقبال کے مداحوں میں سے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے کا ہندی زبان میں مکمل ترجمہ کیا ہے۔ Reconstruction of Religious Thought in Islam اس کام میں انھوں نے کئی سال صرف کئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اقبال کی اس کتاب کا خلاصہ کیا ہے۔ مگر وہ اس کا کوئی خلاصہ نہ بتا سکے۔ اصل یہ ہے کہ زبان دانی الگ چیز ہے اور فہم اس سے الگ چیز۔ موجودہ زمانہ میں زبان داں تو بے شمار ہیں مگر صاحب فہم مشکل ہی سے کوئی ملتا ہے۔ ۱۷ مارچ ۱۹۹۲ ایک صاحب انگریزی سے اردو میں ترجمہ کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک مضمون کا ترجمہ کیا۔ اس میں ایک جگہ cutting corners لکھا ہوا تھا۔ اس کا ترجمہ انھوں نے کر دیا: کونَا کاٹنا۔ حالانکہ کہ یہ ایک محاورہ ہے اور اس کا مطلب کفایت شعاری ہے۔ اس سے مراد مالی کفایت شعاری نہیں ہے بلکہ کسی بھی نوعیت کی کفایت شعاری ہے۔ مثلاً to cut a corner کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader