Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

لے لیتے ہیں اور اس کو پریس کے ذریعہ ہر جگہ پھیلا دیتے ہیں۔ پہلی غلطی اگر صرف غلطی ہے تو دوسری غلطی تباہ کن غلطی۔ مجھے کبھی کبھی یہ خیال ہوتا ہے کہ آخرت کا سب سے بڑا عذاب غالباً حسرت کا عذاب ہوگا ۔ آدمی کی موجودہ عمر جب ختم ہو جائے گی اور وہ آخرت کی اگلی دنیا میں ابدی زندگی گزارنے کے لئے پہنچ جائے گا تو اس کو موجودہ دنیا کے کھوئے ہوئے لمحات ایک ایک کرکے یاد آئیں گے۔ وہ سوچے گا کہ دنیا میں کیسے کیسے مواقع مجھے ملے تھے جب کہ ایک عمل کرکے میں خدا کی رضا جیسی قیمتی نعمت کو پاسکتا تھا۔ جب میں ایک ایمانی تقاضے کو پورا کرکے جنت جیسی ابدی راحت کو حاصل کرسکتا تھا۔ جب میں حق پرستانہ طریقہ اختیار کرکے آخرت کی لامحدود فضاؤں میں عزت کے مقام کا مستحق ہوسکتا تھا۔ مگر ان تمام مواقع کو میں نے کھو دیا۔ تاکہ دگی کی یہ حسرت ناقابل بیان ذلت اور غم بن کر اس کے اوپر چھا جائے گی اور کبھی اس سے جدا نہ ہوگی۔ ۱۹ مارچ ۱۹۹۲ ہمارے یہاں کپڑے گھر میں دھلے جاتے ہیں۔ آج میرا کپڑا دھل کر آیا تو وہ مجھ کو معمول سے زیادہ صاف نظر آیا۔ معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس سے پہلے ایک ملازم کپڑے دھویا کرتا تھا وہ اپنے وطن چلا گیا۔ آج گھر کے لوگوں نے کپڑا دھویا ہے۔ گھر کا آدمی زیادہ توجہ سے کام کرتا ہے اس لئے آج کا کپڑا زیادہ صاف تھا۔ اس واقعہ کے بعد میری سوچ انسانی دماغ کی طرف چلی گئی۔ میں نے سوچا کہ آج کا کپڑا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page