Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

انتظامات ہوں گے ان کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر کلیم صدیقی نے برطانی مسلمانوں کی ایک مشاورتی مجلس بنائی ہے اور اس کا نام مسلم پارلیمنٹ رکھا ہے۔ اس کی توجیہہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ نام ہم نے اس لئے رکھا ہے تاکہ یہاں مسلمانوں کے لئے ہائی پروفائل پولیٹیکل پرزنس (high-profile political presence) کا اظہار ہو سکے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی کوششوں کے بے نتیجہ ہو جانے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ وہ عملاً لو پر و فائل کے مقام پر ہیں۔ مگر وہ ہائی پر وفائل کے مقام سے اپنے کام کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ اس غیر فطری طریقہ نے ان کی کوششوں کو بے نتیجہ بنا دیا ہے۔ ۲۱ مارچ ۱۹۹۲ قدیم مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے مخالف دو تھے ۔ ابو جہل اور ابو لہب۔ قرآن میں ابو جہل کا تذکرہ نام کے ساتھ نہیں۔ مگر ابو لہب کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے۔ (سورہ نمبر ۱۱۱) اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ابو جہل کا کیس سرکشی کا کیس تھا اور ابو لہب کا کیس کمینہ پن کا کیس۔ اور سرکشی کے مقابلہ میں کمینہ پن (دنالت) زیادہ بڑا جرم ہے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں آپ کی مخالفت کا آغاز ابو لہب نے کیا۔ آپ جہاں بھی دعوت کے لئے جاتے ، ابو لہب بھی وہاں پہنچ کر دلیل انداز میں آپ کی مخالفت کرتا۔ وہ لوگوں سے آپ کے بارہ میں کہتا کہ یہ کذاب ہے، اس کی بات نہ سنو۔ صفا کے خطاب کے بعد اس نے کہا: تباً لك سائر اليوم - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ایک معزز اور محترم شخص تھے۔ عام لوگوں کو آپ کے خلاف زبان کھولنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ ابو لہب آپ کا چچا تھا، اس کے لئے آپ کے خلاف بولنا آسان تھا۔ قریبی ہونے کا بنا پر اس کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page