Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

کی آپ کے خلاف عملی ایذارسانی کی جرات لوگوں کو ابو طالب کی وفات کے بعد ہوئی جب کہ آپ کوئی سرپرست نہ رہا۔ ابو طالب کے بعد خاندان کا رئیس ابو لہب کو بنا دیا گیا مگر اس نے آپ کی حمایت سے انکار کر دیا۔ ۲۲ مارچ ۱۹۹۲ ایک قدیم عربی مثل ہے کہ بہادر آدمی بقا کے مقابلہ میں خوش نامی کو ترجیح دیتا ہے اور بزدل آدمی خوش نامی کے مقابلہ میں بقا کو پسند کرتا ہے (الشجاع یختار حسن الذکر على البقاء، و الجبان يختار البقاء على حسن الذكر)۔ یہ تقسیم ایک لحاظ سے تقسیم ہے۔ اصل اہمیت نہ ذاتی بقا کی ہے اور نہ ذاتی خوش نامی کی۔ اصل اہمیت مقصد کی ہے۔ مقصد کی تکمیل کے لئے اگر زندہ رہنے کی ضرورت ہو تو آدمی کو ہلاکت سے بچ کر زندہ رہنا چاہئے۔ اور اگر مقصد قربانی کا تقاضا کرتا ہو تو آدمی کو چاہئے کہ قربانی دے کر اپنے مقصد کو حاصل کرے ۔ ۲۳ مارچ ۱۹۹۲ ایک انسان جو اپنی فطرت پر قائم ہو ، اس کے لئے سب سے زیادہ محبوب چیز یہ ہے کہ اس کو حقائق کی دنیا میں سانس لینے کا موقع ملے۔ موجودہ دنیا میں قول زور اور عمل زور کا طوفان برپا ہے۔ آخرت کی دنیا میں قول صدق اور عمل صدق کا ماحول ہوگا۔ اور بلاشبہ قول صدق اور عمل صدق کے ماحول میں جینے سے زیادہ لذیذ اور کوئی چیز ایک سچے انسان کے لئے نہیں۔ ایک صاحب نے کہا " آپ نے اقبال کو سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے۔ آپ اقبال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page