ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم فروری ۱۹۹۱ ایک انگریزی مجلہ میں خوبصورت قدرتی مناظر دیکھ کر خیال آیا کہ موجودہ دنیا نہایت حسین اور نہایت با معنی ہے۔ یہاں ہر وہ چیز وافر مقدار میں موجود ہے جس کی انسان تمنا کر سکتا ہے۔ البتہ یہ سب کچھ امکانات کی صورت میں ہے۔ انسان کو عقل اور صلاحیت دی گئی ہے تاکہ وہ ان اعلیٰ امکانات کو استعمال کرکے انھیں واقعہ بنائے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنتی امکانات والی ایک دنیا تیار کرکے انسانوں کو دی اور کہا کہ تم یہاں ایک جنتی دنیا تعمیر کرو۔ مگر انسان ایسا کرنے میں ناکام رہا۔ اب وہ دن آنے والا ہے جب خدا انسانوں کو معزول کرکے اپنی دنیا کا چارج خود لے لے۔ اور پھر یہاں ایک جنتی دنیا بنا کر اسے مومنین صالحین کے حوالے کر دے۔ شاید یہی مطلب ہے اس آیت کا: انا نحن نرث الارض ومن عليها۔ ۲ فروری ۱۹۹۱ پاکستان سے ایک اردو روزنامہ ”وفاق“ شائع ہوتا ہے۔ وہ بیک وقت لاہور، کراچی اور راولپنڈی سے شائع ہوتا ہے۔ اس کی پیشانی پر یہ الفاظ لکھے جاتے ہیں: ”تعمیری صحافت کا پاسدار“ اس پاکستانی اخبار کا شمارہ ۲۸ جنوری ۱۹۹۱ کے صفحہ اول کی ایک سرخی یہ ہے: ”ہندوؤں نے مسلمانوں کے جلوس پر حملہ کر دیا، ۶ شہید ۵۰ زخمی۔ اس سرخی کے تحت غازی آباد کے فساد کی خبر شائع ہوئی ہے جو ۲۶ جنوری کو ہوا تھا۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ بھارت (غازی آباد) میں مسلمانوں نے خلیج کی جنگ کے سلسلہ میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تقریباً ۳۰۰ ہندوؤں کے گروپ اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف پتھر اور چاقو اور دیسی ساخت کے بم استعمال کئے اور شہر میں ایک سو سے زیادہ دکانوں کو آگ لگا دی: اس خبر میں کہانی کا نصف حصہ حذف کر دیا گیا ہے۔ پورا قصہ یہ ہے کہ ۲۶ جنوری کو ہندوستان کا یوم جمہوریہ تھا۔ عین اسی دن مسلمانوں نے جلوس نکالا۔ اس جلوس کو وہ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader