Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

اور اس مثال کا تجزیہ کر کے بتائیے۔ مگر وہ کوئی مثال نہ دے سکے۔ میرا احساس ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں حقیقی علمی تنقید کا کوئی وجود نہیں۔ وہ عیب جوئی اور الزام تراشی کو تنقید سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ تنقید نام ہے تجزیہ کا۔ ۲۵ مارچ ۱۹۹۲ انسان کی اعلیٰ صلاحیتوں اور دنیا کے غیر معمولی مواقع پر سوچتے ہوئے میری زبان پر یہ الفاظ آگئے ــــــــ انسان امکاناتِ خداوندی کا تعارف ہے اور دنیا امکاناتِ جنت کا تعارف۔ انسان کی صورت میں خدا کے وجود کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اور دنیا کی صورت میں جنت کی موجودگی کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ۲۶ مارچ ۱۹۹۲ جمعہ کے دن ہر جگہ مسجدوں میں بھیڑ ہوتی ہے۔ امریکہ کی مسجدوں میں میں نے دیکھا کہ وہاں نمازی آتے ہیں تو آتے ہی صف میں بیٹھ جاتے ہیں۔ جب جماعت کا وقت ہوتا ہے تو ہر ایک اپنی جگہ پر کھڑا ہو جاتا ہے اور فوراً ہی صفیں قائم ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان میں یہ حال ہے کہ لوگ منتشر طور پر ادھر اُدھر بیٹھتے ہیں۔ جب جماعت کھڑی ہوتی ہے تو اقامت کے ساتھ " آگے آجائیے ، آگے آجائیے " کا شور مچتا ہے۔ تکبیر ہونے تک یہ شور جاری رہتا ہے۔ کافی دیر بعد صف بندی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے نمازی ۹۹ فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ اور ہندوستان کے نمازی ۹۹ فیصد معمولی تعلیم یافتہ ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دین کو صحیح طور پر نہ زندہ کرنے کے لئے امت کے شعور کو بھی اونچا اٹھانا پڑے گا۔ امت اگر کمتر شعور کی سطح پر ہو تو اس کے درمیان جو دین زندہ ہوگا وہ بھی کمتر سطح کا دین ہوگا۔ ۲۷ مارچ ۱۹۹۲ ایک خوبصورت پھول کو دیکھ کر میرے اندر عجیب اہتزاز کی کیفیت پیدا ہوئی۔ میں نے کہا : شاید یہ خوبصورت پھول اس لئے بنائے گئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر آدمی یہ سوچے کہ جب امرفیکٹ دنیا اتنی حسین ہے تو پرفیکٹ دنیا کتنی زیادہ حسین ہوگی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page