Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

انریکو ایمانیولی کا قول ہے کہ کچھ لکھنے والے یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ عوام میں جانے جائیں۔ دوسرے وہ ہیں جو اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں میں جانے جائیں، اور کچھ لکھنے والے وہ ہیں جو یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ خود اپنے آپ کو جانیں : Some writers try to be known to the public, others try to be known to their colleagues and yet others try to be known to themselves. (Enrico Emanuelli) اس قول کا آخری حصہ میرے حسب حال ہے۔ غالباً ۱۹۶۰ء میں جب کہ میں رامپور میں تھا۔ مولانا جلال الدین انعمری سے میں نے کہا تھا کہ میں کسی دوسرے کے لئے نہیں لکھتا، میں اپنے آپ کے لئے لکھتا ہوں۔ میں خود اپنی تحریروں کا مخاطب ہوں جب میں اپنے کسی خیال کو لکھتا ہوں تو اس کے بعد مجھے یہ فکر نہیں ہوتی کہ لوگ اس کو پڑھیں گے یا نہیں۔ اپنے خیال کو کاغذ پر منتقل کر لینے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ میرا کام ہوگیا۔ ۲۹ مارچ ۱۹۹۲ پروفیسر عرفان حبیب (علی گڑھ) مشہور سیکولر مورخ ہیں۔ ان کا ایک بیان اخبار قومی آواز (۲۹ مارچ ) میں چھپا ہے۔ انھوں نے کہا کہ : " اگر اجودھیا میں مندر توڑ کر مسجد تعمیر کرائی گئی ہوتی تو اس کا ذکر شری رام چرت مانس میں ضرور ہوتا۔ شری رام چرت مانس بابر کے ہندوستان آنے کے بعد لکھی گئی ہے۔ اگراس معاملہ میں ذرا بھی سچائی ہوتی توتلسی داس اپنے اس گر نتھ میں اس کا لازمی ذکر کرتے۔ چنانچہ انڈیا کے محکمہ آثار قدیمہ کے بھی تنازعہ جگہ کے بارے میں مندر ہونے کا تذکرہ نہیں کیا ہے" ۳۰ مارچ ۱۹۹۲ ہمیشہ سے میری یہ کیفیت ہے کہ رمضان کے آخری روزے میرے لئے بہت سخت ہو جاتے ہیں۔ آج رمضان کے مہینہ کی ۲۴ تاریخ ہے۔ آج کا روزہ میرے اوپر بہت سخت گزرا۔ اس پر یہ کہ مجھے خیال آکرش شاید ماہ رمضان کے روزے سے اس لئے فرض کئے گئے ہیں تا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page