Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

سختی کو یاد کرے ۔ وہ یوم الحساب سے ڈر کر اس سے بچنے کے لئے فکر مند ہو جائے ۔ اس دنیا میں وہ تمام لذتیں موجود ہیں جن کے بارہ میں یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ جنت میں موجود ہوں گی ۔ مگر آج کی دنیا میں یہ لذتیں امپر فیکٹ حالت میں ہیں۔ یہی لذتیں پرفیکٹ صورت میں جنت میں اہل جنت کو دے دی جائیں گی ۔ یہ صرف بے دلیل عقیدہ نہیں بلکہ عین عقلی مسلمہ ہے۔ کیوں کہ جہاں امپر فیکٹ ممکن ہو وہاں پر فیکٹ بھی ضرور ممکن ہوگا ۔ امپر فیکٹ کی موجودگی پر فیکٹ کے امکانی موجودگی کا ثبوت ہے ۔ یکم اپریل ۱۹۹۲ ایک صاحب نے پر جوش تقریر کی اور مسلح جدوجہد کے ذریعہ ساری دنیا میں اسلام قائم کرنے کو امت مسلمہ کا نصب العین بتایا ۔ میں نے کہا کہ آپ جنگ کے ذریعہ دنیا کو زیر کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ ۱۹۹۱ کے آخر میں جب سوویت یونین ٹوٹا تو اس وقت سوویت یونین کے پاس تیس ہزار ایٹمی ہتھیار تھے۔ ان میں سے ۱۲ ہزار دور مار ایٹمی میزائل تھے، اور ۱۸ ہزار نزدیکی فاصلہ کے میزائل ۔ یہ تمام کے تمام سوویت یونین کے مختلف مقامات پر بالکل تیار حالت میں نصب تھے ۔ گوربا چوف کو صرف بٹن دبانا تھا۔ اور امریکہ اور مغربی یورپ پر ایٹمی ہتھیاروں کی بارش ہونے لگتی ۔ مگر اس نے ' بلیک باکس خاموشی سے یلتسن کے حوالے کر دیا اور بٹن دبانے کی جرأت نہیں کی۔ دوسری طرف آپ کے پاس کوئی طاقت نہیں اور آپ ساری دنیا سے لڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سوویت یونین اقتصادی اعتبار سے بد حال ہو چکا تھا۔ اس لئے وہ اپنے ہتھیاروں کو استعمال نہ کر سکا۔ میں نے کہا کہ جنگ کا بٹن دبانے کے لئے معاشی خوش حالی کی ضرورت نہیں۔ اسلام کے دور اول میں جو غزوات پیش آئے وہ سب معاشی تنگی کے حالات میں پیش آئے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page