Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں حسن بھی ہے اور لذت بھی۔ مگر یہ حسن اور لذت دراصل جنت کی ایک ابتدائی جھلک تھی جو موجودہ دنیا میں صرف اس لئے رکھی گئی تھی کہ آدمی یہ جان سکے کہ اگر اس نے خدا پرستی کی زندگی اختیار کی تو موت کے بعد کیسی پر کیف قیام گاہ اس کو ملے گی۔ مگر انسان اسی دنیا کی چیزوں میں محو ہو کر رہ گیا۔ دنیا کی جنت کو چھوڑنا تھا ، اس کے بعد آخرت کی جنت کو پانا تھا۔ مگر انسان نے چھوڑنے والی چیز کو نہیں چھوڑا۔ اس لئے وہ پانے والی چیز کو بھی نہ پاسکا۔ ۳ اپریل ۱۹۹۲ میں مذہبی لوگوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے سطحی نظر آتے ہیں۔ بغیر مذہبی لوگوں کو دیکھتا ہوں تو وہ مجھے سرکش نظر آتے ہیں۔ ظاہر کے اعتبار سے ایک مذہبی اور دوسرا غیر مذہب ہی۔ لیکن اندر کے اعتبار سے شاید دونوں یکساں ہیں۔ کیوں کہ سرکشی اور سطحیٹ میں کوئی نوعی فرق نہیں۔ ۴ اپریل ۱۹۹۲ میں جب اپنی پچھلی تحریروں کو دیکھتا ہوں اور اس کا مقابلہ موجودہ تحریروں سے کرتا ہوں تو مجھے دونوں میں ایک فرق نظر آتا ہے۔ میری پچھلی تحریروں میں روانی زیادہ تھی ، اور موجودہ تحریروں میں روانی مقابلے کم ہے۔ اس فرق کا سبب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پچھلے دور میں میرے اوپر ادبی انداز کا غلبہ تھا۔ اور بعد کے دور میں منطقی انداز غالب آگیا۔ جب منطقیت کم تھی تو روانی زیادہ تھی ، اور جب منطقیت بڑھی تو روانی کم ہو گئی۔ ۱۵ اپریل ۱۹۹۲ کل رمضان کا مہینہ ختم ہو گیا۔ آج عید الفطر کا دن تھا۔ میں نے عرب سرائے کی مسجد میں عید کی نماز پڑھی۔ جب میں چل کر مسجد کے دروازہ پر پہنچا تو دل بھر آیا۔ بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ میں نے کہا کہ خدا آیا، اپنی کمزوری کی بنا پر میرے اندر روزہ رکھنے کی ہمت نہ تھی ، مگر مجھے اس سے نفرت آجا کہ جس بخدا نے رزق دیا۔ میرے سرار سے وہ کھانے سے منع کر رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page