Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

جس بندہ کو میں نے اتنا زیادہ عاجز پیدا کیا۔ اب مجھے غیرت آتی ہے کہ میں اس کو جہنم کی آگ میں ڈالوں۔ فرشتو، اس کو جنت میں لے جاؤ، کیونکہ میں نے اسے بخش دیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ قرآن کے مطابق، مسلمان خیر امت ہیں۔ وہ تمام امتوں سے افضل ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن کی آیت کی یہ تفسیر صحیح نہیں۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں : «كنتم خير امة اخرجت للناس (آل عمران (۱۱۰)، نحاس نے کہا کہ جملہ کی تقدیر اس طرح ہے کہ تم لوگوں کے واسطے بہتر امت ہو (قال النحاس، والتقدير على هذا كنتم للناس خير ائمة (الجامع لاحكام القرآن (۱۷۱/۴ گویا یہ لفظ کسی انسانی مجموعہ کا لقب نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس کی اس صفت کا بیان ہے کہ وہ لوگوں کے لئے خیر کا باعث ہوتی ہے۔ اس سے اپنے آپ یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ "خیر امت" کا اطلاق اس پر اس وقت ہوگا جب کہ وہ لوگوں کے لئے خیر کا سبب بنے۔ اگروہ لوگوں کے لئے خیر کا سبب نہ بنے تو اس کے بعد وہ اس کا مصداق بھی نہ رہے گی ۔ صحابہ کرام نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ پورے معنی میں لوگوں کے لئے خیر ہیں۔ اس لئے وہ اللہ کی نظر میں خیر امت قرار پائے۔ بعد کے لوگ اس کا مصداق اس وقت ٹھہریں گے جب کہ وہ صحابہ کی مانند عمل کریں ۔ اسی لئے حضرت عمر نے فرمایا : من فعل فعلہم کان مسلم (۱۷۰/۳) ۷ اپریل ۱۹۹۲ "خدا موجود ہے۔" یہ جملہ جتنا حیرت ناک ہے اتنا ہی یہ جملہ بھی حیرت ناک ہے کہ "میں موجود ہوں"۔ اپنی موجودگی کو آدمی روز اول سے دیکھتا ہے اس لیے وہ اس کو بدیہی چیز سمجھ لیتا ہے۔ مگر وہ خدا کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتا ۔ اس لئے وہ اس کو بدیہی نہیں سمجھتا ۔ آدمی اگر اس راز کو جان لے تو خدا پر یقین کرنا اس کے لئے ایسا ہی بن جائے جیسے اپنے آپ پر یقین کرنا۔ گجرات کے دو مسلمان آئے۔ گفت گو کے دوران انھوں نے کہا کہ آپ ہندوؤں سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page