ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
حسن اخلاق کا طریقہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ حالاں کہ ہند و ہمارے خلاف سازش میں مصروف ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں ہے کہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی (و ان تصبرو او تتقو لا یضركم کید هم شيئاً)، قرآن کی اس آیت کی روشنی میں غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اصل مسئلہ سازش کی موجودگی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ صبر اور تقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔ ۹ اپریل ۱۹۹۲ مسجد میں ایک اہل حدیث بزرگ تھے۔ نماز کے لئے کھڑا ہوا تو وہ صف میں میرے پاس تھے۔ حسب معمول میرے دونوں پاؤں قریب قریب تھے۔ انھوں نے اپنا پاؤں پھیلانا شروع کیا، یہاں تک کہ میرے پاؤں سے ملا دیا۔ ہر بار وہ قیام میں ایسا ہی کرتے رہے۔ نماز کے بعد انھوں نے کسی قدر تلخ لہجہ میں کہا کہ آپ لوگوں کی نماز درست نہیں ہوتی۔ حدیث میں قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور آپ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ قدم سے قدم ملانا ایک علامتی حکم ہے۔ اصل مقصد تو دل سے دل ملانا ہے۔ آپ نے قدم سے قدم ملانے کا مسئلہ تو جانا مگروہ دل سے دل ملانے کا مسئلہ آپ نہ جان سکے۔ ۱۰ اپریل ۱۹۹۲ انگریز نو مسلم مسٹر جان محمد بٹ سے ایک بار میں نے کہا کہ مسلم میری محبوب چیز ہے مگر آج تک میری پسند کے مطابق کوئی مسلم مجھے نہیں ملا۔ اس کے بعد وہ اپنے وطن لندن گئے تو واپسی میں وہ میرے لئے ایک مسلم لائے۔ اس کو دیتے ہوئے انھوں نے مجھ سے کہا : کافی تلاش کے بعد میں نے یہ مسلم آپ کے لئے حاصل کیا ہے۔ اگر چہ میں جانتا ہوں کہ یہ بھی آپ کو پسند نہیں آئے گا۔ کیوں کہ آپ پر فکشنٹ (perfectionist) ہیں۔ اور اس دنیا میں کسی پر فیکٹ چیز کا ملنا ممکن نہیں۔ میرا حال بڑا عجیب ہے۔ ایک طرف میرا ذوق انتہائی حد تک نازک اور لطیف ہے۔ اور اس بنا پر دنیا کی کسی بھی چیز سے میں محظوظ نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف عملی اعتبار سے اپنے کو دیکھتا ہوں تو اپنے آپ کو میں آخری حد تک ناقص پاتا ہوں۔ اس دو طرفہ احساس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader