ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
تحت میری زبان سے نکلا ــــــــ آہ وہ انسان جو دنیا کے حسن سے enjoy نہ کرسکا وہ امپر فیکٹ تھا اور آخرت کے حسن سے وہ اس لئے محروم رہے گا کہ وہ خود امپر فیکٹ ٹھہر کر اس سے دور کر دیا جائے گا۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۲ء مارچ ۱۹۹۲ میں کرنل بشیر حسین زیدی کا انتقال ہو گیا۔ وہ اس سے پہلے ایسوسی ایٹڈ جنرلز لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرس کے چیئر مین تھے۔ اردو روزنامہ قومی آواز کا تعلق اسی ادارہ سے ہے۔ قومی آواز کے ایڈیٹر عشرت علی صدیقی کا ایک مضمون نزیدی صاحب کی یاد میں قومی آواز (۲ اپریل ۱۹۹۲) میں چھپا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں۔ (کانگریس حکومت کے خاتمہ کے بعد جب قومی آواز کی اشاعت عارضی طور پر بند ہو گئی تھی ، اسی زمانہ میں زیدی صاحب نے مجھے لکھا کہ مولانا علی میاں نے ایک گفتگو کے دوران ان سے اخبار بند ہو جانے کا شکوہ کیا اور کہا کہ انھوں نے ، یعنی مولانا علی میاں نے ، اخبار پڑھنا اس وقت تک کے لئے بند کر دیا ہے جب تک قومی آواز کی اشاعت پھر شروع نہ ہو جائے۔ یہی معاملہ عام طور پر ہمارے علما کا ہے۔ عالمی خبروں کو جاننے کے لئے ان کا سارا انحصار اردو اخباروں پر ہوتا ہے۔ اور اردو اخبارات کے متعلق میری رائے ہے کہ وہ اتنے ناقص ہوتے ہیں کہ صرف اردو اخبارات کو پڑھنے والا آدمی کبھی صحیح طور پر خبروں کی دنیا سے واقف نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں ان علما کا سیاسی اور اجتماعی معاملات میں داخل ہونا صرف ایک غیر سنجیدہ فعل ہے ۱۲ اپریل ۱۹۹۲ء صحیح بخاری کی شرح فتح الباری ، مقدمہ سمیت ، چودہ جلدوں میں ہے۔ کہا جاتا ہے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیری نے فتح الباری کو تیرہ بار حفر فأ حر فاً پڑھا تھا۔ مگر حدیث کے فہم کے لئے یہ کافی نہیں۔ حتی کہ اگر کوئی شخص فتح الباری کو ۳۳ بار پڑھ ڈالے تب بھی یہ ضروری نہیں کہ حدیث کو سمجھنے میں اسے بصیرت کا درجہ حاصل ہو جائے۔ قرآن یا حدیث کو سمجھنے کے لئے اصل اہمیت توفیق خداوند ی کی ہے۔ اور توفیق خدا وندی اس شخص کو ملتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader