Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے جو مکمل طور پر خالی الذہن ہو کر قرآن و حدیث کو پڑھے۔ موجودہ علماء کا حال یہ ہے کہ کوئی حنفی مسلک کا ذہن لے کر قرآن و حدیث کو پڑھتا ہے اور کوئی غیر حنفی مسلک کا ذہن لے کر۔ اور اس قسم کا متاثر ذہن قرآن و حدیث کو سمجھنے میں رکاوٹ ہے نہ کہ ان کو سمجھنے میں مددگار۔ مزید یہ کہ فتح الباری ، اپنی تمام ترا اہمیت کے باوجود ، حدیث کی تشریح زیادہ فقہی پہلوؤں کے اعتبار سے کرتی ہے۔ ایسی حالت میں اس کا مطالعہ بجائے خود فہم حدیث کے لئے کافی نہیں ہو سکتا۔ ۱۳ اپریل ۱۹۹۲ ایک عالمی جائزہ (ہندوستان ٹائمز ۱۳ اپریل) کے مطابق، اس وقت زیر ترقی ممالک میں دنیا کی آبادی کا ۷۵ فیصد حصہ آباد ہے۔ مگر ان کو دنیا کی آمدنی کا صرف ۱۴ فیصد حصہ ملتا ہے: today, the developing world has 75 percent of the world population and 14 percent of the world income. اس فرق کو ایشیائی اور افریقی مبصرین مغرب کی " سازش " کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ گرمیں اس کو قانون قدرت کا نتیجہ سمجھتا ہوں۔ سازش بھی، اگر بالفرض اس کو مان لیا جائے تو وہ مغربی قوموں کی صلاحیت کے خانہ میں جاتی ہے۔ کسی سازش کی کامیابی کے لئے دو چیزیں لازمی طور پر ضروری ہیں۔ سازش کرنے والے کی کامیاب منصوبہ بندی، اور سازش سے متاثر ہونے والے کا اس کے توڑ میں ناکام ثابت ہونا۔ ۱۴ اپریل ۱۹۹۲ الطاف حسین حالی (۱۹۱۴ء-۱۸۳۷) نے اپنی مسدس میں کہا تھا: حکومت نے آزادی آیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں۔ یہ انگریزوں کی حکومت کا زمانہ تھا۔ لوگوں کے اندر سیاسی جوش پھیلا ہوا تھا۔ چنانچہ حالی کی اس بات کا مذاق اڑایا گیا۔ اقبال (۱۹۳۸ء-۱۸۷۵) نے کہا: ملا کو جو ہے ہند میں سجدہ کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page