Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا سید حسین احمد مدنی (۱۹۵۷ء-۱۸۶۹) اور ان کے استاد مولانا محمود حسن صاحب ریشمی رومال تحریک کے تحت مدینہ میں تھے۔ انگریز اس منصوبہ سے باخبر ہو گئے ۔ ان کی ہدایت پر شریف مکہ نے ان دونوں کو گرفتار کر کے دسمبر ۱۹۱۶ میں مصر بھیج دیا۔ وہاں ان پر مقدمہ چلایا گیا ۔ اس کے بعد دونوں کو ۲۱ فروری ۱۹۱۷ کو مالٹا پہنچا کر وہاں ایک قدیم قلعہ کے اندر قید کر دیا گیا۔ یہاں تین ہزار قیدی پہلے سے موجود تھے۔ یہ لوگ ۱۲ مارچ ۱۹۲۰ تک مالٹا میں رہے۔ اس کے بعد بحری جہاز کے ذریعہ انہیں لا کر ۵ جون ۱۹۲۰ کو بمبئی میں رہا کر دیا گیا۔ مالٹا میں وہ مجموعی طور پر تین سال سات مہینے رہے۔ ترک موالات کے زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ کی تحریک پر مسلم طلبہ نے کلکتہ کے مدرسہ عالیہ کا بائیکاٹ کیا تو مولانا آزاد نے ان کے لئے کلکتہ کی مسجد ناخدا میں ایک مدرسہ قائم کیا۔ مولانا حسین احمد مدنی یہاں مدرس مقرر کئے گئے۔ وہ دسمبر ۱۹۲۰ سے جون ۱۹۲۱ تک سات مہینے اس مدرسہ سے وابستہ رہے۔ ۲ ستمبر ۱۹۷۴ کو مسجد عبدالبنی میں میری ملاقات مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادے مولانا اسعد مدنی سے ہوئی۔ انہوں نے گفتگو کے دوران بتایا کہ میں نے حضرت رحمتہ اللہ علیہ (مولانا حسین احمد مدنی) سے یہ سنا ہے کہ کلکتہ کی مسجد ناخدا میں تقسیم سے پہلے ہر روز تقریباً ایک سو آدمی آکر اسلام قبول کرتے تھے ۔ اور یہی کیفیت اس وقت سارے ملک میں تھی۔ مگر تقسیم کی منافرت کی سیاست کے نتیجہ میں یہ سب ختم ہو گیا (جمعیتہ ویکلی ۲۲ مارچ ۱۹۷۳ ، صفحہ ۳) ۱۶ اپریل ۱۹۹۲ محمد ادریس صاحب بھوپالی سے ملاقات ہوئی۔ وہ سعودی عرب جاتے ہوئے دہلی آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بھوپال میں عید کی رات (دہم اور ۵ اپریل ۱۹۹۲ کی درمیانی شب میں) فرقہ پرست ہندو تقریباً ساری رات سڑکوں پر ہنگامہ کرتے رہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ہندوؤں نے جمع ہو کر جلوس نکالا اور مسلم محلوں کی سڑکوں سے گزرے۔ ان کی ایک تعداد پیدل چل رہی تھی اور ایک تعداد ٹرکوں پر سوار تھی۔ مسلم محلوں میں گھومتے ہوئے انہوں نے برابر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page