ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
استعمال انگیز نعرے لگائے۔ مگر مسلمانوں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ ہر ایک عید کی تیاری میں مشغول رہا۔ صبح کو بھوپال کی عید گاہ میں پونے آٹھ بجے عید کی نماز تھی۔ امام صاحب ٹھیک وقت پر کھڑے ہو گئے ۔ معمول کے خلاف نہ شروع میں کوئی تقریر کی اور نہ آخر میں لمبی دعا۔ بہت کم وقت میں لوگ عید گاہ سے لوٹ کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ۔ انھوں نے بتایا کہ فرقہ پرست ہندو اسی لئے اشتعال انگیز نعرے لگا رہے تھے کہ مسلمان مشتعل ہو کر کوئی جارحانہ کارروائی کریں۔ اس کے بعد ان کے خلاف فساد شروع کر دیا جائے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ تحمل اور اعراض نے ان کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا۔ ۱۷ اپریل ۱۹۹۲ ایک صاحب ہیں، وہ اپنے آپ کو پریکٹیکل انسان سمجھتے ہیں اور مجھ کو آئیڈیلسٹ قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں عملی تقاضوں کو دیکھ کر چلتا ہوں۔ چنانچہ میں ہر میدان میں کامیاب ہوں۔ اس کے برعکس تمہارا یہ حال ہے کہ تم ہمیشہ اپنے آئیڈیلزم کی وجہ سے نہایت قیمتی مواقع کو کھو دیتے ہو۔ میں خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا۔ آخر میں میں نے ان کو حدیث سنائی۔ من احب دنیاه اضر باخرته ومن احب آخرته اضر بدنياه۔ فاثروا ما يبقى على ما يفنى اور کہا کہ ایسا مت کہئے ۔ کیا معلوم قیامت کے دن آپ کی کامیابی کو من احب دنیاه اضر باخرته کے خانہ میں لکھ دیا جائے ۔ اور میری ناکامی کو من احب آخرته اضر بدنياه کے خانہ میں۔ ۱۸ اپریل ۱۹۹۲ مسجد میں امام نے سلام پھیرا تو فورا صف سے ایک آدمی اٹھا اور کھڑا ہو کر چندہ کی اپیل کرنے لگا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ان لوگوں نے مسجد کو چندہ مانگنے کا اڈہ بنا دیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے مگر اس سے بھی زیادہ برے وہ لوگ ہیں جو مسجد کو سیاست کا اڈہ بنائے ہوئے ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ( دہلی ) کے کچھ مسلم طلبہ ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader