Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندو محلہ سے لے گئے ۔ مزید یہ کہ مقام فساد اکیلا بیٹھہ ، پر ہندو ٹنٹ لگا کر ہندو کلچرل تقریب کر رہے تھے۔ مسلمانوں نے ٹنٹ ہٹانے پر اصرار کیا۔ کیوں کہ ان کو اس مقام پر جارح بش کا پتلا جلانا تھا۔ مسلمانوں کے اس غلط اصرار پر فساد شروع ہوا ۔ پاکستان کے اخبارات ہندوستان کو بدنام کرنے کے لئے مستقل طور پر اس قسم کی خبریں چھاپتے رہتے ہیں۔ اس قسم کی خبریں چھاپنا بلاشبہ بدترین جرم ہے۔ ۳ فروری ۱۹۹۱ ہندوستان اور پاکستان کے اردو اخبارات آجکل صدام حسین کو اسلامی ہیرو کے انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک صلاح الدین ایوبی دوبارہ تاریخ میں لوٹ آیا ہے۔ یہ اردو اخبارات صدام حسین کو اسلام کے سب سے بڑے خادم کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف مکہ کے اخبار العالم الاسلامی (۳۱ جنوری ۱۹۹۱) کے پہلے صفحہ کی جلی سرخی یہ ہے : النظام العراقی يحاول استغلال الاسلام لتبرير عدوانه الأثم عراقی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ اپنے ظالمانہ گناہ کو جائز و ثابت کرنے کے لئے اسلام کو استعمال کرے، اردو اخبارات میں اس قسم کی سرخیاں قائم کی جا رہی ہیں کہ صدام حسین نے عالم اسلام کو متحد کر دیا ہے۔ دوسری طرف مکہ سے نکلنے والے ایک جریدہ الرابطہ ( دسمبر ۱۹۹۰) کی کوید اسٹوری کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی گئی ہے : الغزو العراقي الغاشم لدولة الكويت مزق وحدة الصف الاسلامی (کویت کے اوپر عراق کے غدارانہ حملے نے اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا۔) اردو اخبارات اپنے پرجوش مضامین کے ذریعہ یہ تصور دے رہے ہیں کہ صدام حسین نے فلسطین کی آزادی کار راستہ کھول دیا۔ اور ریاض سے نکلنے والے الدعوة (۲۴ جنوری ۱۹۹۱) میں ایک مضمون ہے جس کا عنوان ہے : جرائم الطاغية تمنح الفرصة لاسرائیل (صدام طاغوت کے جرم الم کا فائدہ اسرائیل کو پہنچے گا ۔ کیسا عجیب فرق ہے ایک اسلام اور دوسرے اسلام میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page