ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
اس یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کی تعداد دس فیصد سے زیادہ ہے۔ سالہا سال سے یہاں ہندو اور طلبہ اور مسلم طلبہ بھائی بھائی کی طرح رہتے تھے۔ ان کے درمیان فرقہ وارانہ فیلنگ بالکل نہیں تھی۔ اب وہاں کچھ جماعت اسلامی کے ذہن کے طلبہ آگئے ۔ انھوں نے مسلم طلبہ کے درمیان یہ تحریک چلائی کہ ان کا علیحدہ اتحاد قائم کیا جائے۔ طلبہ نے کہا کہ مسلمانوں میں تو اتحاد کا مزاج نہیں۔ چنانچہ مسلم طلبہ متحد نہ ہو سکے۔ البتہ اس کا رد عمل یہ ہوا کہ ہند و طلبہ متحد ہو گئے ۔ اور غیر ضروری طور پر یونیورسٹی کیمپس میں ہندو مسلم فیلنگ پیدا ہوگئی۔ موجودہ زمانہ میں اسلام پسند لوگ ہر جگہ یہی نادانی کر رہے ہیں۔ وہ حالات کے خلاف غیر دانشمندانہ طور پر اسلام کا جھنڈا اٹھاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں خود مسلمان تو متحد نہیں ہو پاتے ۔ مگر غیر مسلم عناصر متحد ہو کر زیادہ بڑا مسئلہ بن جاتے ہیں۔ ۲۰ اپریل ۱۹۹۲ جامعہ ملیہ ( دہلی) کے ایک ریسرچ اسکالر آئے۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک مقالہ تیار کر رہا ہوں جس میں یہ دکھایا جائے گا کہ سائنس کی تمام باتیں خود ہمارے قرآن میں موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے اس نظریہ سے اتفاق نہیں۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امور انسانی کی دو تقسیم کی ہے۔ امور آخرت اور امور دنیا۔ آپ نے امور آخرت کا مآخذ قرآن وسنت کو قرار دیا۔ اور امور دنیا کی بابت یہ ہدایت دی کہ وہ سائنٹفک ریسرچ سے تعلق رکھتی ہیں۔ تمہاری تحقیق اور تجربہ سے جو بات ٹھیک ثابت ہو اس کو مان لو۔ یہی تقسیم اسلام اور عقل کے مطابق ہے۔ ۲۱ اپریل ۱۹۹۲ رحمان نیر صاحب (نظام الدین ) اپنا پچھلا مکان گرا کر نیا مکان بنا رہے ہیں۔ ان کا اندازہ تھا کہ نئے مکان کی تعمیر میں ایک سال کا وقت لگے گا۔ ان کے پڑوسی کے ایک مسلم وکیل نے انھیں اپنا ایک مکان دیا کہ یہاں آپ ایک سال تک بلا کرایہ رہیں۔ ایک سال پر خالی کر کے مجھے لوٹادیں۔ ابھی سات مہینے گزرے تھے کہ وکیل صاحب نے ان سے مطالبہ کیا کہ آپ میرا مکان خالی کر دیجئے۔ رحمان نیر صاحب نے کہا کہ آپ نے تو مجھے ایک سال کے لئے دیا تھا۔ پھر آپ قبل از وقت کیوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader