Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

خالی کروا رہے ہیں۔ وکیل صاحب نے کہا کہ میرے رشتے دار پاکستان سے آرہے ہیں۔ ان کو ٹھہرانا ہے۔ رحمان نیر صاحب نے کہا کہ آپ انہیں ہوٹل میں ٹھہرا دیں۔ اس کا پورا بل میں ادا کروں گا۔ مگر وکیل صاحب راضی نہیں ہوئے رحمن نیر صاحب کی بیوی وغیرہ اس بات پر بہت خفا ہیں۔ مگر رحمان نیر صاحب نے انہیں سمجھایا کہ یہ خفگی مٹّھ کی نفسیات کے خلاف ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہم کو سات مہینہ تک بلا کرایہ کا ایک گھر ملا دیا۔ اگر ہم اس پر شکر کریں گے تو جس طرح اللہ نے پہلے ہمارا انتظام کیا، وہ آئندہ بھی ہمارا انتظام کرے گا۔ میں نے کہا کہ یہی سوچ دینی سوچ ہے۔ ملے ہوئے کو یاد کرنے سے شکر گزاری پیدا ہوتی ہے اور ملے ہوئے کو بھول جانے سے ناشکری۔ ۲۲ اپریل ۱۹۹۲ کلیم اللہ صدیقی گورکھپور، نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی پیغام لکھ کر دیجیے۔ میں نے انہیں حسب ذیل الفاظ لکھ کر دئے : زندگی ایک امتحان ہے۔ جو آدمی جتنا زیادہ باشعور ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہوگا۔ ۲۳ اپریل ۱۹۹۲ النسائي (كتاب عشرة النساء، باب حب النساء) میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتیں اور خوشبو میری پسند بنا دی گئی ہیں۔ اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔ (عن انس، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم۔ حبّب إلى النساء و الطيب وجعلت قرة عيني في الصلاة "میں" کا لفظ یہاں ذاتی معنوں میں نہیں ہے۔ وہ در اصل ایک تربیتی اسلوب کے طور پر ہے۔ اس سے مقصد یہ بتانا ہے کہ ایک صحیح الفطرت اور ایک حق پرست آدمی کی محبوبات کی فہرست کیا ہونا چاہئے۔ یہاں "تین" کا لفظ بھی بطور عنوان ہے نہ کہ بطور حصر۔ عورت گویا انسانی خواہش کی جائزہ تکمیل کی علامت ہے۔ خوشبو گویا فطرت سے لطف اندوز ہونے کی بے ضرر صورت ہے۔ نماز یا عبادت الٰہی وہ چیز ہے جو آدمی کی روح کی حقیقی تسکین کا سرچشمہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page