Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک ضرورت کے تحت میں دہلی کے ایک نرسنگ ہوم میں گیا۔ یہ پرائیویٹ نرسنگ ہوم ہے۔ ہر چیز نہایت باقاعدہ اور منظم تھی۔ ڈاکٹر حضرات اور عملہ کے دوسرے افراد معیاری انداز میں اپنے کام میں مصروف تھے۔ یہ سب کے سب ہندو لوگ تھے۔ ان کو دیکھ کر خیال آیا کہ خدا کے کتنے بندے ہیں جو ابھی حق کو نہیں جانتے۔ کتنا زیادہ ضروری ہے کہ ان کو حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ میں نے سوچا کہ اگلی ملاقات میں انشا اللہ میں یہاں کے ڈاکٹر کو الرسالہ انگریزی کی کچھ کاپیاں پیش کروں گا۔ ان بندگانِ خدا کو دعوت پیش کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے سامنے اسلامی حکومت کے محاسن بیان کئے جائیں۔ ان کے لئے دعوت کا اصل کام یہ ہے کہ ان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے باخبر کیا جائے۔ انسانوں کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے باخبر کرنا ہی دعوت کا اصل نشانہ ہے۔ ۲۵ اپریل ۱۹۹۲ بنگلور کے ایک صاحب، جو عالم ہیں اور تبلیغی جماعت کے چلہ میں نکلے تھے۔ چلہ پورا کرنے کے بعد مجھ سے ملے۔ میں نے اس سلسلہ میں ان کے تاثرات پوچھے تو انھوں نے بتایا کہ چلہ کے بعد دل میں بڑا سکون محسوس ہو رہا ہے۔ میں نے کہا کہ سکون تو غفلت کی علامت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت کے لئے نمونہ ہیں۔ آپ کے بارہ میں روایات میں آتا ہے کہ کان متوالی الاحزان دائم الفکرۃ۔ اس کے مطابق، ایمان کا نتیجہ درد ہونا چاہئے نہ کہ سکون۔ ۲۶ اپریل ۱۹۹۲ رڑکی کے ایک نوجوان آئے۔ انھوں نے انجینئرنگ کا کورس کیا ہے۔ ان کے والدین نے ان کا نکاح کر دیا تھا۔ مگر دو سال ساتھ رہنے کے بعد دونوں میں ان بن ہوگئی۔ انھوں نے مجھ سے مشورہ پوچھا کہ کیا میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں۔ میں نے کہا کہ طلاق کا معاملہ ایک انتہائی نجی معاملہ ہے۔ اس کا فیصلہ آدمی خود ہی کر سکتا ہے۔ تاہم میں ایک اصولی بات کہوں گا۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں آئیڈیل بیوی ملنا ممکن نہیں ہے۔ آپ اگر شادی شدہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ کو ہر حال میں آئیڈیل سے کم پر راضی ہونا پڑے گا۔ آپ اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page